تازہ ترین
Home / اہم خبریں / وفاق اور سندھ کی حکومتیں نورا کشتی کھیلنا بند کریں، لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد عوام کا واسطہ ٹرانسپورٹ کے عفریت سے پڑے گا۔ اقبال ہاشمی چیف آرگنائزر پاسبان

وفاق اور سندھ کی حکومتیں نورا کشتی کھیلنا بند کریں، لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد عوام کا واسطہ ٹرانسپورٹ کے عفریت سے پڑے گا۔ اقبال ہاشمی چیف آرگنائزر پاسبان

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ وفاق اور سندھ حکومتیں نورا کشتی کھیلنا بند کریں۔ کراچی میں لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد شہریوں کو درپیش ٹرانسپورٹ جیسے اہم ترین مسئلے سے نمٹنے کے لئے واضح حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ عوام کورونا میں تمام تر احتیاطی تدابیراختیار کر کے عوام اپنے کام کاج پر جا سکیں۔ کراچی میں پانچ ہزار بڑی بسیں چلانے کا وعدہ پورا کیا جائے۔ کراچی سرکلر ریلوے کو ہنگامی طور پر بحال کیا جائے۔ گرین لائن منصوبے کی تعمیر جلد از جلد مکمل کر کے، فائلوں میں بند دیگر ٹرانسپورٹ منصوبوں کو جلد شروع کر کے کراچی کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ کے مسائل سے نجات دلائی جائے۔ حکومت نے کراچی کے سب سے بڑے مسئلے ٹرانسپورٹ کے بد ترین نظام کو درست کرنے کیلئے کوئی قدم نہ اٹھا یا تو لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد ٹرانسپورٹ کا عفریت ایک بار پھر عوام کے سروں پر مسلط ہو جائے گا۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے وفاقی و صوبائی حکومت کی توجہ کراچی کے شہریوں کو درپیش ٹرانسپورٹ کے مسئلہ کی جانب دلاتے ہوئے مزید کہا کہ ملک کے سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کے ساتھ سوتیلے بچے والا سلوک بند کریں۔ چار دہائیوں سے درپیش ٹرانسپورٹ کی بدحالی شہریوں کے لئے اذیت ناک مسئلہ بن چکی ہے۔ سرکاری ٹرانسپورٹ کا نہ ہونا، ٹرانسپورٹ کی کمی اور نجی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں زیادتی جیسے عوامل نے کراچی کے شہریوں کو چنگ چیز میں پھنس کر، منی بسوں میں دھنس کر، چھتوں پر چڑھ کر اور پائیدانوں پر لٹک کر سفر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کراچی تین کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والا شہر، جہاں آمد و رفت کے لئے سرکاری ٹرانسپورٹ سرے سے ہے ہی نہیں۔ حکومت ٹرانسپورٹ فراہمی کیلئے بڑے بڑے اور طویل المدتی منصوبے بناتی ہے لیکن وہ سب کاغذوں تک ہی رہ جاتے ہیں۔ کراچی میں سرکلر ریلوے اور سند ھ حکومت کی پانچ ہزار بسیں خواب بن گئی ہیں۔ کراچی شہر میں  ٹرانسپورٹ کا انتظام چلانے کے لئے ٹرانسپورٹ اتھارٹی فعال نہیں ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کراچی سے منتخب ہو ئے اور آج ان کے پاس کراچی پر توجہ دینے کیلئے وقت نہیں ہے، صدر مملکت کا تعلق بھی کراچی سے ہونے کے باوجود کراچی کی حالت زار بہتر بنانے کے لئے ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ دو سال قبل سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ نے کراچی کے لئے نئی بسیں چلانے کا اعلان کیا تھا، سڑکوں کی حالت زار بھی بہتر بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تمام وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے، نہ ہی کوئی نئی بسیں چلیں اورنہ ہی ٹرانسپورٹ سے متعلق کوئی بھی منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکا۔ لاک ڈاؤن کے بعد یہ صورتحا ل مزید خطرناک ہو جائے گی۔ کراچی سرکلر ریلوے اگر بحال ہو چکا ہوتا تو عوام کو لاک ڈاؤن کے بعد اچھا ذریعہ سفر میسر آجاتا۔ حکومت ٹرانسپورٹ مالکان اور نمائندے ابھی سے احتیاطی تدابیر کے بارے میں سوچ و بچار کریں۔

 

یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی نے جماعت اسلامی سری لنکا کے سابق امیر شیخ محمد احمد کی وفات پر دلی رنج و غم کا اظہار
https://www.nopnewstv.com/muhammad-hussain…s-expressed-deep/

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے