تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کورونا کے دوران وزیر اعلی ہاؤس کی آرائش پر خطیر اخراجات عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ عبدالحاکم قائد

کورونا کے دوران وزیر اعلی ہاؤس کی آرائش پر خطیر اخراجات عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ عبدالحاکم قائد

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ کراچی میں کاروبار بند پڑے ہیں، معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے لیکن مراد شاہی حکومت کو شاہ خرچیوں سے فرصت نہیں ہے۔ وزیر اعلی ہاؤس کی زیبائش و آرائش پر کثیر اخراجات، لاک ڈاؤن سے بدحال عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ کورونا کا بار بار رونا، مریضوں کی بڑھتی تعداد اور لاک ڈاؤن محض وفاق سے فنڈز ہتھیانے کے ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ سندھ بالخصوص کراچی کو وفاق کے ساتھ انا کی جنگ میں جھونک دیا گیا ہے۔ حفاظتی تدابیر کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ پاکستان میں کورونا سے متاثرین کے حکومتی اعداد و شمار الحمدوللہ کورونا کی خطرناک صورتحال کے زمرے میں نہیں آتے۔ عبدالحاکم قائد نے کہا کہ پے درپے نااہلیوں سے حکومت سندھ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں، پاسبان کورونا کے خلاف کسی بھی مہم میں رضاکارانہ سندھ حکومت کے ساتھ کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے کیلئے تیار ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاسبان کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد نے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کے لئے آئے ہوئے پاسبان کراچی کے عہدیداروں سے بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دور میں وزیر اعلی ہاؤس کی مرمت اور تزئین و آرائش کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے کی منظوری سندھ حکومت کے خود غرضی پر مشتمل اقدامات کا کھلا ثبوت ہے۔ کیا وزیر اعلی ہاؤس کی زیب و زینت عوام کی جان سے زیادہ اہم ہے؟ ایسے نازک وقت میں جبکہ عوام کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملہ کے پاس حفاظتی سامان، ٹیسٹ کٹس، ادویات کی شدید قلت ہے، کیا ڈیڑھ کروڑ کی خطیر رقم کو اس طرح تزئین وآرائش پر خرچ کرنا درست ہے؟ اس رقم سے کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ڈاکٹرز کو طبی سامان فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ناکافی انتظامات کے ساتھ سندھ حکومت کی کارکردگی، عمومی فیصلے اور اقدامات افسوسناک ہیں۔ پریشان حال عوام کو ضروری اشیاء خریدنے کی کوئی سہولت نہیں دی جا رہی، اشیائے ضروریہ کے دام کنٹرول کرنے والے محکمے بھی لاک ڈاؤن میں آرام فرما رہے ہیں۔ عالمی وبا کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران حکومتی سہولیات کی عدم دستیابی نے عوام کو جیتے جی مار ڈالا ہے۔ کراچی کے علاوہ اندرون سندھ بھی عام آدمی کی حالت خراب ہے اور حکومت سندھ کے متعصبانہ اور بے حسی پر مبنی اقدامات سے ثابت ہوچکا ہے کہ یہ حکومت کسی کے ساتھ بھی مخلص نہیں ہے۔ پاسبان کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعلی ہاؤس سمیت تمام سرکاری رہائش گاہوں کو قرنطینہ سینٹرز میں تبدیل کیا جائے۔ ڈیڑھ کروڑ کی رقم کو تزئین و آرائش کے بجائے عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: سانگھڑ بانس مارکیٹ میں اچانک آگ لگنے سے ایک کروڑ سے ذیادہ مالیت کا بانس اور دیگر تعمیراتی سامان جل کر خاکستر
https://www.nopnewstv.com/due-to-lack-of-fire-brigade-of/

About admin

یہ بھی پڑھیں

سندھ کی تقسیم کا کوئی امکان نہیں ایک سے زائد حکومتیں نہیں بنیں گی، سعید غنی

کراچی (رپورٹ، ذیشان حسین) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے