راچی (رپورٹ ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ قرض کی مے اپنا رنگ دکھا رہی ہے اور حکومت سکھ چین کی بین بجا رہی ہے۔پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔ جب صبح شام وزراء تبدیل ہوں گے تو پائیدار حکمت عملی کون بنائے گا؟ ایک مرتبہ پھر سعودی عرب مرکزی بینک کو تین بلین ڈالر کی ادائیگی کرے گا۔ حکومت وضاحت کرے کہ یہ بالواسطہ ادائیگیاں کن خدمات کے عوض ہیں؟ قیمتی گاڑیوں کی درآمدات پر پابندی کیوں نہیں لگائی جا رہی؟ حکومت کی کارکردگی صفر نہیں ہے بلکہ منفی ہے۔ عمران خان فرسٹریشن کا شکار ہیں۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اوسط درجے کے لیڈر بھی نہیں ہیں۔ ملک میں مہنگائی کا جو عالم ہے وہ موجودہ حکومت کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ دیرپا ثابت ہو۔ صنعتوں کی ترقی کے لئے حکومت نے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ حکومت مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ غلط معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ کا سونامی آیا ہے جس سے عام آدمی کو اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ بھوک، بیروزگاری اور معاشی عدم استحکام نے غریب عوام کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت کی خودساختہ ماہرین پر مشتمل معاشی ٹیم نے شاندار ناکامی ثابت کی ہے اور ملک کو اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ خارجہ پالیسی، معیشت، مہنگائی، جس طرف نظر دوڑائیں تباہی ہی نظر آ رہی ہے۔ تعلیم، صحت، پبلک ٹرانسپورٹ، زراعت اور دیگر اہم شعبے تباہی کا شکار ہیں۔ سنعت و تجارت تباہی کے دہانے پر ہیں۔ تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں نمایاں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہے۔ تجارتی خسارہ کو کنٹرول کیلئے پرتعیش اور غیر ضروری درآمدات پر پابندی لگائی جائے۔ صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے۔ تاکہ پاکستانی اشیاء کی بیرون ملک کھپت میں اضافہ سے برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خسارہ میں کمی ہوسکے۔ زرعی اور صنعتی انقلاب کے ذریعے پیداوار میں اضافہ کر کے غربت میں کمی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے دستیاب افرادی قوت کو بروئے کار لایا جائے۔