کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ عید کے دنوں میں کورونا کیسز میں اضافے کے باعث حکومت کو سختی کرنا پڑی، سختی نہیں کی تو صورتحال قابو سے باہر ہوسکتی ہے تاجر برادری ہماری اپنی ہے تجارت سے زیادہ شہریوں کی جان کی حفاطت ہے کسی سے تعصب برت رہے نہ ہی بے جا سختی کررہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت قاسم سراج سومرو ان کے ہمراہ تھے بیرسٹر مرتضی وہاب نے مزید کہا کہ پاکستان کے کپتان نے کل فرمایا پی ٹی آئی کی اگلی حکومت میں پاکستان ترقی کریگا خان صاحب نے خوشخبری سنائی پچھلے تین سال میں تبدیلی کے نام پر جس تباہی سے دوچارکیا ہے اس کا جواب کون دیگا اگر آنے والے دو سال بھی ان کی حکومت رہی تو پتہ نہیں لوگوں کا حال کیا ہوگا ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر لوگ ڈھونڈ رہے ہیں بنی گالا میں جو رہ رہا ہے اسکا گھر ریگلولرائز ہوگیا غریب کا گھر گرایا گیا۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں نے جی ڈی پی کو بڑھایا ہے یہ کنفیوژ حکومت ہے بجٹ سے دس روز پہلے سیکریٹری خزانہ کو تبدیل کردیا گیا ملک میں معیشت جب بہتر ہوگی جب جمہوریت بہتر ہوگی انہیں یو ٹرن لینا بند کرنے ہونگے وفاقی حکومت نے ریکارڈ قرضے لیے کہتے ہیں ملک کی معیشت کو ہم نے درست سمت میں ڈال دیا ہے کہتے ہیں ٹیکس اور معیشت صیحح سمت میں جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک میں بے بتدریج بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے ملک میں اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ محض اعلانات سے کچھ نہیں ہوتا کچھ نظر بھی آنا چاہئیے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ این ایف سی میں شارٹ فال کا سامنا ہوتا ہے پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑٹا ہے سندھ کو اسکے حصے کا پانی نہیں مل رہا 68 فیصد گیس سندھ سے نکلتی ہے آپ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سندھ کو اسکے حصے کی گیس نہیں ملی موجودہ مالی سال کا بجٹ میری اطلاعات کے مطابق پی ایس ڈی پی میں کوئی بڑی اسکیم نہیں ہے پرانی اسکیم کے پیسے رکھے گئے ہیں اور کچھ نالیوں وغیرہ کے لئیے پیسے رکھے ہیں کوئی بڑی اسکیم موجود نہیں اور اس سے لگتا ہے کی سندھ وفاق کی ترجیح نہیں ہے بیرسٹرمرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ ریونیو بورڈ نے گزشتہ سال کے مقابلے میں انیس فیصد زیادہ ٹیکس جمع کیا ہے سندھ واحد صوبہ ہے جہاں ٹیکس کی شرح سب سے کم ہے عوام کو ریلیف سندھ حکومت میں مل رہی ہے وفاق نے 4.9 کھرب کا ٹارگٹ رکھا تھا جو آپ کو کم کرنا پڑا وفاقی حکومت اب تک 4.1 کھرب روپے ٹیکس جمع کرسکی ہے انہوں نے کہا کہ سندھ کو پانی کی قلت کا بھی سامنا ہے زمینی حقائق کے مطابق ہمیں ہمارے حصے کا پانی نہیں مل رہا وفاقی حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے سندھ کے عوام کو گیس کی لوڈ شیڈنگ ما سامنا رہا وفاقی متوقع بجٹ میں سندھ کے لیے کوئی بڑی اسکیم نہیں رکھی گئی ہے سہون پٹارو روڈ 2017 سے این-5 ہائی وے کو مکمل نہیں کیا جاسکا ہم نے ان کی مدد کے لیے اشتراک کیا اور سات بلین روپے وفاقی حکومت کو دیے لیکن آج تک وہ ہائی وے نہیں بن سکا ہائی ویز بنانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کراچی حیدرآباد موٹر وے کو موٹر وے کہنا غلط ہے؟ وہاں سے ٹول تو وصول کیا جاتا ہے مگر باقاعدہ موٹر وے نہیں ببنائی جا رہی آپ پنجاب کے روڈز اور موٹروے دیکھ لیں پھر موازنہ کریں پتہ چل جائیگا۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کراچی کا معاشی قتل کیسے ہوا پچھلے سالوں میں سب جانتے ہیں کنسٹرکشن انڈسٹری پنجاب کیوں چلی گئی اس پر تفصیلی بحث ہو سکتی ہے کورونا وائرس ایک حقیقت ہے پیر کے روز این سی او سی کا اجلاس ہوا وزیر اعظم نے اسکی صدارت کی این سی او سی کے پاس سارا ڈیٹا جاتا ہے فواد چوہدری کہتے ہیں کے کراچی میں صورتحال خراب ہے تو وزیر اعلی سندھ نے ٹاسک فورس کی موجودگی میں وزیر اعظم کو کہا کہ جب کہا جاتا ہے کے چیزیں کھول رہے انہوں نے کہا کہ ہیں تو تاثر غلط جاتا ہے اسد عمر نے کہا ہم نے یہ معاملہ صوبائی حکومتوں پر چھوڑا وزیر اعظم نے کہا کے وفاقی حکومت میسج دے گی کے کراچی میں کچھ سختی کی ضرورت ہے اسد عمر کو کہا گیا تھا کے اس معاملے پر وہ پریس کانفرنس میں کلئیر کریں گے یہ سب چیزیں ریکارڈ پر ہیں تاجروں کا احساس ہے سندھ حکومت کو لوگوں کو اس احساس کی بھی ضرورت ہے اگر یہ وباء مزید پھیلی تو لوگوں کی جانیں جا سکتی ہیں عید کے دنوں میں کیسز پڑھے اسکے بعد سندھ حکومت کو سختی کرنی پڑی جسکے باعث کیسز کم ہوئے ہیں ڈاکٹرز کی مشاورت سے سختیوں کو بڑھایا گیا ہفتے میں سے تین روز گزر چکے ہیں اس طرح کی پریس کانفرنس کرکے تاثر دیا جاتا ہے کے سندھ حکومت کورونا پھیلا رہی ہےاگر سختیوں سے گلہ ہے تو اس سے نکلنے کے دو ہی طریقے ہیں ایک ماسک اور دوسرا ویکسین ہے۔