Home / اہم خبریں / آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقدہ چودھویں عالمی اُردو کانفرنس کے دوسرے روز ”تقدیسی ادب کی صورتِ حال“ کے عنوان سے سیشن کا انعقاد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقدہ چودھویں عالمی اُردو کانفرنس کے دوسرے روز ”تقدیسی ادب کی صورتِ حال“ کے عنوان سے سیشن کا انعقاد

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقدہ چودھویں عالمی اُردو کانفرنس کے دوسرے روز ”تقدیسی ادب کی صورتِ حال“ کے عنوان سے سیشن کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر عالیہ امام نے کی جبکہ ابوصفہیان اصلاحی نے علی گڑھ بھارت اور کینیڈا سے آن لائن تقی عابد نے ”آزادی کے بعد اردو مراثیہ اور جوش“، طارق ہاشمی نے ”پون صدی میں نعت کا تخلیقی تناظر“، عزیز احسن نے ”آزادی کے بعد نعت کے اہم رجحانات“ اور فراست رضوی نے ”حمد باری عالیٰ: کل اور آج“ پر گفتگو کی، اس موقع پر ابوصفہیان اصلاحی نے صدارتی بیان میں کہا کہ آج یہاں حمد اور تقدیسی ادب کا بار بار ذکر آیا مگر میں سمجھتا ہوں حمد کا جن لوگوں نے آغاز کیا ہے اس میں ایک ایک ممتاز نام اسماعیل میرٹھی ہے، دوسرا یہ کہ قرآن مجید میں حمد کے حوالے سے سورہ اخلاص میں بہت اختصار اور سلیقے کے ساتھ ذکر موجود ہے، طارق ہاشمی صاحب نے بہت سے نکات کو اٹھایا جس پر میں انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ جو اُردو نعت گو شعراء ہیں یا حمدیہ اشعار کہتے ہیں ان کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ جو بنیادی نقطہ ہے اس سے واقفیت ضروری ہے، انہوں نے بتایا کہ یہود و نصاریٰ کے جو اہل علم و دانش اربابِ ادب تھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا احترام کرتے تھے اور باقاعدہ ان لوگوں سے اپنے صحابہ کرام اور بچوں کو پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے انہوں نے کہا کہ اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ ارباب علم کا کسی بھی قوم یا شعبے سے تعلق ہو تو اس کا احترام ضروری ہے، دیکھا جائے تو اُردو ادب کی ترویج اور ترسیل میں ارتقاء میں اخفان الصفاء کا گراں قدر کردار ہے، ڈاکٹر عالیہ امام نے کہا کہ میرے سامنے علم و دانش کے نئے اور پرانے چراغ روشن ہیں ان کے سامنے لب کشائی کرنا پھولوں پر عطر ملنے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ اردو زبان محبوبہ ہے آپ اس سے لاکھ پیچھا چھڑانا چاہیں اس کا رمز و نشانہ آپ کا دامن نہیں چھوڑے گا، ہم آج نہیں تو کل اردو کا پرچم یہاں لہرا کر رہیں گے، جہاں تک تقدیسی ادب کا تعلق ہے اس کی تین سطحیں ہیں جن پر ہمیں غور کرنا چاہیے، پہلی سطح حمد ونعت اور دوسری سطح اقبال ہے جس نے پوری طرح دنیا میں روشناس کرایا، فراست رضوی نے کہا کہ حمد نگاری نعت نگاری سے زیادہ مشکل فن ہے، یہاں موضوع وہ ہے جس کی کوئی شخصیت نہیں، الفاظ کے محدود پیمانے میں اس کا ظفر سما نہیں سکتا، وہ قادرِ مطلق ہے،اس کا صفاتی وجود ہرفقت چشمِ بشر کے سامنے ہے، کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے جمال سے روشن ہے، یہ سب اس کے ہونے کا اعلان کر رہے ہیں وہ مقامِ تشبیہ ہے جو حمد نگاروں کا واحد تخلیقی سہارا ہے، اردو کی ابتدائی غزل فارسی تصوف آمیز غزل سے پروان چڑھی، یہ محض خدا سے عشق کی جہت ہے حمد نگاری کی لازمی شرائط میں سے ایک شرط ہے، حمد کو کامل تاریخ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، طارق ہاشمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پورا کلاسیکل ادب ہے گرچہ اس میں نعت بطور صنف شعر نہیں ملتی، لیکن کوئی بھی ایسا شاعر نہیں ہے کہ جس کا دیوان ان کی غزلیں حمدیہ اشعار سے نہیں ملتیں یا میلاد نامے ہیں ان میں نعتیہ اشعار یا مستعارات جس کو ہم حمد بطور صنف یا نعت بطور صنف کہتے ہیں اس کا ظہور نو آبادیاتی عہد میں ہوتا ہے، یہ وہ دور تھا جس میں مسلمانوں کو اپنی شناخت کا اظہار کرنا تھا، انہوں نے کہا کہ ہمیں قرآن کے بیان کردہ تصور عظمت کی جانب جانا ہوگا۔ نظامت کے فرائض شکیل خان نے انجام دیے۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے