کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) صوبائی وزیر سیدہ شہلا رضا نے کہا ہے کہ بالخصوص وہ کھیل جن میں اولمپکس میں پاکستان کی کبھی کوئی نمائندگی نہیں رہی ہے اس میں خواتین کی شرکت اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا باعث اعزاز و باعث فخر ہے، خواتین ہر شعبے میں خود کو منوا رہی ہیں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی و روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹوکیو اولپمکس میں بیڈمنٹن ایونٹ میں نمائندگی کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون ایتھلیٹ ماہو شہزاد کو اپنے دفتر میں تعریفی شیلڈ پیش کرنے اور ٹوکیو اولمپکس میں انکی کامیابی کے لیے نیک تمنائیں پیش کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری محکمہ ترقئ نسواں سندھ انجم اقبال جمانی، سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومن کی چیئرپرسن نذہت شیریں، سابق انٹرنیشنل ہاکی پلئیر اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کو آرڈینیٹر حیدر حسین بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماہو شہزاد پاکستان بالخصوص سندھ کا فخر ہیں جو پانچ سال سے مسلسل نیشنل چیمپئین ہیں اور اب ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں کہ جب پاکستان میں مختلف واقعات کو خواتین سے جوڑا جارہا ہے تو وہاں ہماری بچیاں اس طرح آگے بڑھ رہی ہیں تو میری خواہش ہے کہ ہماری بچیوں کو بہتر مواقع میسر آئیں اور اس ماحول میں وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ماہو شہزاد کو اپنے دفتر میں مدعو کرنے اور انہیں تعریفی شیلڈ پیش کرنے کا بنیادی مقصد انکی حوصلہ افزائی کرنا اور ٹوکیو اولمپکس میں بہترین کارکردگی کے لیے ان کے لیے نیک خواہشات و نیک تمناؤں کا اظہار کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ پاکستان میں سندھ کے علاوہ دیگر صوبے اسپورٹس پر اس طرح سے توجہ نہیں دے رہے جس طرح سے سندھ اسپورٹس کو سہولیات فراہم کررہا ہے۔ میری وفاقی و صوبائی حکومتوں سے گزارش ہے کہ وہ کھیلوں کی سرپرستی کریں اسے فروغ دیں اور اس میں لڑکے یا لڑکی کی بنیاد پر تفریق نہ کریں۔