کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضٰی وہاب نے کلفٹن کے ساحل پر اربن فاریسٹ منصوبہ کا افتتاح کردیا منصوبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت تیس لاکھ پودے لگائے جائینگے یہ سندھ حکومت اور ایس آر او این جی او کا مشترکہ منصوبہ ہے جسکی تکمیل سے کراچی میں ماحولیاتی آلودگی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی افتتاحی تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ علی زیدی صاحب وفاقی وزیر برائے بحری امور نہیں بلکہ وفاقی امور برائے ٹیویٹر نے کام خراب کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی کی ساحلی پٹی پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جس پر حکومت سندھ نے یہ سوچا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالہ سے انقلابی اقدامات کئے جائیں۔ اس لیے ہم نے ساحلی پٹی پر اربن فاریسٹنگ کا منصوبہ شروع کیا ہے انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ میں لگائے جانے والے پودے ہمارے صوبہ اور شہر کے پودے ہیں اور کچھ جاپانی پودے بھی ہیں۔ منصوبے میں 20 ایکڑ کی جگہ شجر کاری کیلئے مختص کی گئی ہے اس جگہ پر پہلے کچرا تھا اور آج یہاں یہ خوشگوار ماحول ہے مزید برآں اس فٹ پاتھ کو بھی بنایا گیا ہے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ اس مثبت کام میں ہم نیک نیتی سے باہر نکلے تھے ہم نے پہلے کام شروع کیا اس کے بعد میڈیا کو مدعو کیا گیا انہوں نے صحافیوں کو اس منصوبہ کے بارے میں آگاہی فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پودے 5 سے 6 فٹ کے فاصلے پر زمین میں لگائے ہیں اور اس مقصد کیلئے پودوں کی نرسری بھی یہاں بنائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ کچھ لوگ خود تو کام نہیں کرتے اور اپنے وعدوں کو وفا نہیں کرتے پھر کوئی کام کرے تو اسے متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں ترجمان سندھ حکومت نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ افراد نے دعویٰ کیا کہ یہ زمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ملکیت ہے جب یہاں کچرا ڈالا گیا اور جھگیاں بنائی گئی اس وقت خیال نہیں آیا کہ یہ زمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ہے مگر اب سندھ حکومت ماحولیاتی آلودگی کے خلاف عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے شجر کاری کے انقلابی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہی ہے تو یہ اپنے بیانات سے اسے متنازع بنانے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی زیدی صاحب وفاقی وزیر برائے بحری امور نہیں بلکہ وفاقی امور برائے ٹیویٹر نے کام خراب کرنے کی کوشش کی ہے مگر یہ ساری زمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کی نہیں بلکہ حکومت سندھ کی ملکیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سندھ حکومت کی زمینوں پر قابض ہیں اور ہم پر الزام تراشیاں کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 769 ایکٹر اراضی سندھ حکومت کی زمینوں پر ہے اور یہ لوگ اس پر قابض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکارڈ کی درستگی کیلئے تمام دستاویزات سپریم کورٹ میں موجود ہیں اگر سندھ حکومت کی زمین کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی تو پھر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں سندھ کابینہ میں بھی اس مسئلہ کو اجاگر کروں گا۔ یہ لوگ غیر قانونی طور پر سندھ کی زمین پر قابض ہیں اور یہ لوگ چوری پھر اس پر سینہ زوری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کراچی سے ووٹ لینےکا دعویٰ کیا لیکن عملی طور پر کوئی کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں ہم نے جو پودے لگائے تھے وہ آج تناور درخت بن گئے ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر برائے بحری امور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موصوف چائنا کٹنگ پر یقین کرتے ہیں اب یہ لوگ چوری اور سینہ زوری کر رہے ہیں۔ جن لوگوں نے کراچی سے ووٹ لیا اور دعوے کیئے لیکن کوئی کام نہیں کیا لیکن مائی کلاچی روڈ پر 2019 میں ہم نے جو پودے لگائے وہ اب تناور درخت بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹیڈ اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے اپنے اے ٹی ایمز استعمال کررہے ہیں اور ان لوگوں کو بچانے کے لیے سینیٹ میں لایا جارہا ہے۔ ان نااہلوں کا ٹارگٹ عوام کی فلاح و بہبود نہیں ہے اور ان کی کوئی سیاسی سوچ بھی نہیں ہے۔ یہ لوگ ملک کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں 6 بار پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ لوگ ایوان میں کہتے تھے ہم حکومت میں آکر قیمتیں کم کریں گے مگر اب ان کے وعدے اور دعوے کہاں چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری باتیں بتاتی ہے کہ یہ عوامی حکومت نہیں ہے آج سے میں ان کی جماعت کا نام "پاکستان تحریکِ استحصال” رکھتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مراد علی شاہ نے صرف سرہرائز کا زکر کیا تھا اور وہ 3 تاریخ کو انہیں سرپرائز مل جائے گا مگر یہ حکومت ماحول دوست ماحول نہیں چاہتی ہے۔ ترجمان سندھ حکومت نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ہمیں کوئی قانونی دستاویزات دکھا دیں جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ زمین کے پی ٹی کی ہے اگر یہ ثابت ہوا تو میں اس معاملہ سے دست بردار ہو جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا فیصلہ ہے کہ زمین کی ملکیت صوبائی معاملہ ہے اور آئینی اعتبار سے زمین کی ملکیت صوبائی سبجیکٹ ہے۔