کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کھلی آنکھوں سے سو رہی ہے۔ کراچی میں کوویڈ، بارش اور لاشوں پر سیاست کی جاتی ہے۔ انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ابر رحمت کراچی کے عوام کے لئے زحمت بن جاتا ہے۔ سندھ میں میں سون کا آغاز ہو رہا ہے، تیز بارشیں متوقع ہیں۔ بارشوں کی آمد آمد ہے، نالوں کی صفائی نا ہوئی تو شہر بارش اور نالوں کے پانی میں ڈوب جائے گا۔ ابھی وقت ہے کہ نالوں اور ندیوں کی صفائی کرلی جائے، ندیوں پر بند باندھے جائیں اور گٹروں کی صفائی اور نکاسی آب کا مناسب انتظام کرلیا جائے۔ نالوں کی صفائی کا مناسب انتظام کیا جائے تاکہ بارش کے موسم میں یہ ڈرین لائن کو جام نہ کریں۔ بارشوں کے بعد تعفن سے وبائی امراض پھوٹ پڑتے ہیں۔ ویسے تو ساری دنیا میں بارش کے پانی کو ضائع نہیں کیا جاتا ہے بلکہ اسے مناسب طریقے سے جمع کرکے استعمال میں لایا جاتا ہے لیکن سندھ گورنمنٹ کی بڑی مہربانی ہوگی اگر وہ نکاسی آب کا مناسب انتظام کر دے اور نالوں کی جن زمینوں پر ان کی ناک کے نیچے قبضہ ہوا ہے اسے واگزار کرا لے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی مظلومیت کا ڈرامہ کرکے ساری دنیا سے بھیک مانگتی ہے۔ وفاق کی صوبے سے ناانصافی کا رونا روتی رہتی ہے۔ جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے کی تمنا رکھنے والے سیلاب کی صورت حال مارکیٹ کرتے ہیں اور ساری دنیا سے غریبی کہ تصاویر دکھا کر بے شرمی سے خیرات وصول کرتے ہیں۔ مزید بے شرمی یہ کہ غریبوں کی اشک شوئی کرنے کی بجائے سب کچھ خود ڈکار جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی بیڈ گورننس کا نتیجہ ہے کہ کراچی شہر آج بے یارو مددگار حالت میں ہے، بارشوں کے بعد صورتحال مزید گمبھیر ہو جائے گی۔ ندی نالوں کے اطراف کی آبادی سمیت کچی آبادیاں، ماہی گیر معیاری تعمیرات اور ان کے مکینوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال سے بچنے کے لئے پہلے ہی تمام حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں تاکہ بعد کے مسائل سے بخوبی نمٹا جاسکے، بصورت دیگر کچرے سے بھرے برساتی نالے ابل پڑیں گے اور بارش کے پانی کے ساتھ مل کر ایک بار پھر کراچی کو ڈبونے کا باعث بن جائیں گے۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرح بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔