میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) محکمہ صحت میرپورخاص کے گریڈ 16 کے ملازم غلام محمد میمن محکمہ صحت کے افسران کی زیادتیوں اور مسلسل آٹھ سالوں سے اپنے حق سے محروم کیے جانے کے خلاف ایوان صحافت پہنچ کر محکمہ صحت میں من پسند کی پروموشن، تقرریوں، اور اختیارات کے ناجائز استعال کرپشن کو بے نقاب کیا اور عزت ماب جناب چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، چیف سیکریٹری سندھ، صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری ہیلتھ سے انکے ساتھ انصاف کرنے کی اپیل کی ہے، غلام محمد میمن نے کہا کہ وہ اس وقت گریڈ 16 میں اسسٹنٹ ہیڈ کلرک میرپورخاص میں کام کر رہے ہیں، انہوں کہا سابق ایڈیشنل سیکریٹری صحت عمران عطا سومرو نے ٹوکن منی (رشوت لیکر) میرا آرڈ 3 مارچ 2014 کو کینسل کیا اور مجھے اس عمل سے لا علم رکھا اور ساڈھے تین ماہ کے بعد 16 جون 2014 کو مجھے آرڈر کینسل کا بتایا گیا جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ سے میں نے 2 جولائی 2014 کو اسٹے لیا جس کے بعد معزز عدالت نے 12 اکتومبر 2017 کو میرے کیس میں پندرہ دنوں کے اندر ڈپارٹمینٹل پروموشن کمیٹی بنا کر میرٹ کے بنیاد پر پروموشن کرنے کا حکم دیا، انہوں نے بتایا کہ سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر اخلاق احمد نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے، آرڈر مجھ سمیت تین آرڈر کینسل کیے اور ملازمین کو پروموٹ کیا، سیکریٹری محکمہ صحت کے پاور استعمال کیے اور مجھے ذاتی انتقام کا نشانا بنایا، انہوں نے بتایا کہ انہوں نے توہین عدالت کا کیس داخل کیا جو میری سی پی نمبر 114/2018 اور توہین عدالت درخواست نمبر 4895/2020، زیر التوا ہے، انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت کے سینئر کلرک غلام محمد بجیر جو مجھ سے ایک سال جونیئر ہے اور ایم اے کوالیفکیشن کے جعلی ڈاکومنٹس پر ہائر کوالیفکیشن انکریمنٹ لینے پر اینٹی کرپشن کورٹ سے سزا یافتہ ہے اسکو اس وقت ہیڈ کلرک اور ڈرگ آفس کلرک آفس میرپورخاص کا فل فلیج چارج دیا گیا ہے، جبکہ تھرپارکر محمکہ صحت کے نائب قاصد پر بھرتی ہونے والے غلام محمد جونیجو اس وقت اسسٹنٹ اکاؤنٹ افسر تھرپارکر کی پوسٹ پر تعینات ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے حق اپنی کینسل شدہ ڈپارٹمنینٹل پروموشن کمیٹی کے سابق ڈائرکیٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر اخلاق کی جانب سے اختیارات نہ ہونے کے باوجود بھی آرڈر کینسل ہونے کی شکایات پر فیصلہ اب تک نہی ہو رہا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکریٹری ہیلتھ میری اور نظر آرائیں کی فریش ڈی پی سی میٹنگ بلواکر ڈی پی سی پر فیصلہ کریں اور محکمہ میں ناجائز من پسند افراد کی تعیناتی کینسل کرکے میرٹ پر مظلوم ملازمین کو تعینات کیا جائے اور سابق ڈی جی ہیلتھ کی جانب سے غلط پروموش کیے تھے جس کے بعد میری درخواست پر ہیلتھ سیکریٹری نے انکوائری کروائی جوکہ ثابت ہوئی جس پر سفارش کی تھی اور سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر اخلاق احمد کی پینشن بند کرنے اور انکے خلاف چیف سیکریٹری سے کاروائی کرنے انکی جانب سے کیے گئے پروموشن آرڈرز رد کرنے اور ڈی جی آفس سے ہٹانے کی سفارش تھی اس پر عمل در آمد کیا جائے۔