Home / اہم خبریں / آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز ”شیخ ایاز“پر سیشن کا انعقاد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز ”شیخ ایاز“پر سیشن کا انعقاد

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) شیخ ایاز بیس ویں صدی میں صرف سندھی زبان کے بڑے شاعر نہیں بلکہ عالمی سطح پر شمار ہونے والے بڑے شعراء میں سے ایک ہیں ان خیالات کا اظہار آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز شیخ ایاز سے متعلق منعقدہ سیشن سے ادیبوں نے کیا، سیشن سے مہتاب اکبر راشدی، حارث خلیق اور جامی چانڈیو نے خطاب کیا جبکہ میزبان ڈاکٹر قاسم بگھیو تھے، مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ بظاہر شیخ ایاز کی شخصیت انتہائی پرسکون نظر آتی تھی لیکن ان کی شاعری میں بہت بڑی جرأت اور بہادری تھی، ون یونٹ میں جب سندھی زبان پر پابندی لگی تو شیخ ایاز نے ہم سب کو جگایا انہوں نے کہا کہ شیخ ایازکی جی ایم سید اور شیخ مجیب الرحمن دونوں کے جلسوں میں شاعری لوگ گاتے تھے تو لوگ شیخ ایاز کو ایجنٹ کہتے تھے لیکن دراصل ایاز کی شاعری عوام کی ترجمانی کرتی تھی، انہوں نے کہا کہ شیخ ایاز نے سندھ یونیورسٹی میں حمایت علی شاعر اور عالیہ امام سمیت اُردو ادیبوں کو بھی بہت عزت دی کیونکہ شیخ ایاز خود بھی اردو کے بہت بڑے شاعر تھے، انہوں نے کہا کہ سندھی زبان بولنے والوں نے اردو کو بہت پڑھا ہے، میں سمجھتی ہوں کہ شیخ ایاز صرف بیس ویں صدی کے ہی نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے بڑے شاعر ہیں، کیونکہ شیخ ایاز نے خود اپنی ایک ایک سطر کے ساتھ جوڑ رکھا ہے، شیخ ایاز نے سندھ کو کمال کا حوصلہ دیا اور اس کا ایک ایک لفظ بامقصد تھا، جامی چانڈیو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جو بھی تخلیقی جینئس ہوتا تھا اس کے پاس اپنا ادراک بھی ہوتا ہے وہ اس کے ذات کی انا نہیں ہوتی بلکہ ان کی تخلیق کا ادراک ہوتا ہے، شیخ ایاز سے قبل بھی سندھ میں ترقی پسند ادب کا جدید دور موجود تھا لیکن شیخ ایاز نے اس ترقی پسند ادب کو اپنا چہرہ دیا اور اپنی شناخت دی، شیخ ایاز کی شاعری میں جمالیات کا عروج ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ترقی پسندیت کا نیا اسلوب شامل ہے، انہوں نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اردو زبان سندھیوں کے لیے اجنبی زبان ہے لیکن سچل سرمست، مزا قلیچ بیگ اور شیخ ایاز اردو کے بڑے شاعر تھے اور اردو اس خطے میں قیام پاکستان کے قبل بھی موجود تھیں اور سندھی کے بڑے شعراء نے اردو میں بھی شاعری کی ہے انہوں نے کہا کہ شیخ ایاز کا تعلق شکار پور سے تھا اور شکارپور کا برصغیر کے علم و ادب میں بہت بڑا کردار ہے اتنا بڑا کردار ہے کال ماکس نے اپنی کتاب میں تین بار شکار پور کا ذکر کیا، شیخ ایاز کے متعلق خطاب کرتے ہوئے حارث خلیق نے کہا کہ ون یونٹ کے بعد شیخ ایاز نے اردو میں لکھنا چھوڑ دیا تھا جو اردو ادب کے لیے بہت بڑے نقصان کے مترادف ہے، شیخ ایاز صرف سندھی زبان ہی نہیں بلکہ اردو زبان کے بڑے شاعر تھے، اردو کے نقادوں نے شیخ ایاز کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی ہے انہوں نے کہا کہ بڑے تخلیق کاروں کی جڑیں اپنی دھرتی کے اندر مضبوط ہوتی ہیں کیونکہ وہ خود بڑے تناور درخت ہوتے ہیں جن کا سایہ پوری دنیا میں پھیلتا ہے، شیخ ایاز پوری دنیا کے بڑے تخلیق کار تھے وہ بیسویں صدی میں پیدا ضرور ہوئے لیکن تخلیق کاروں کا سفر صدیوں تک محیط ہوتی ہے، شاعروں اور تخلیق کاروں اور ایک دوسرے کے ساتھ مشابہت دینا بہت مشکل کام ہے۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے