Home / اہم خبریں / آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز ”پاکستانی صحافت کا جائزہ“ پر سیشن کا انعقاد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز ”پاکستانی صحافت کا جائزہ“ پر سیشن کا انعقاد

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز ”پاکستانی صحافت کا جائزہ“کے حوالے سے محمود شام، غازی صلاح الدین، صوبائی وزیر سعید غنی، مظہر عباس اور وسعت اللہ خان نے اظہارِ خیال کیا، ناجیہ اشعر نے نظامت کے فرائض انجام دیے، صوبائی وزیر سعید غنی کہا کہ مذکورہ نشست میں گوادر سمیت بعض باتیں جو حکومت سے پوچھی جا رہی ہیں وہ حکومت سے نہیں بلکہ اوپر کی سطح پر پوچھی جانی چاہئیں، جس طرح میڈیا کے ساتھ پابندی والے معاملے کو اٹھایا گیا ہے کہ جو بنا ہوا مل جاتا ہے وہی چلا دیتے ہیں ریاست کے پہلے تین ستونوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام تر صورت حال کے باوجود مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ”سرپھرے“ ہر دور میں مل جاتے ہیں اور یہی سرپھرے ہماری امید بھی ہیں، گوادر میں کئی بڑی ریلیاں نکل رہی ہیں یہ بات سب کو پتا ہے، یہ بات انہیں بھی سمجھنا چاہیے جو میڈیا، پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، محمود شام نے کہا کہ میڈیا کا مالک خود ایڈیٹر انچیف بھی بن گیا ہے تاکہ اسے اخباری معاملات میں عمل دخل کا حق مل سکے، جب سے چینل آئے ہیں تب سے ٹریڈ یونینز نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہیں اب تو صرف موبائل فون پر مسیج آتا ہے کہ آپ کی ضرورت نہیں کل سے مت آئیے گا، انہوں نے کہا کہ اے پی این ایس اور سی پی این ای میں وہی لوگ ہیں جو دونوں جانب موجود ہیں، غازی صلاح الدین نے کہا کہ اس ملک میں جدوجہد کی ضرورت ہے تاکہ ہم مثبت تبدیلی لائیں، ملک میں انصاف کی فراہمی ضروری ہے، میڈیا نے ماضی میں ایسی جدوجہد کی ہے کہ جس پر ہم فخر کرسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ آج کا زمانہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اسے اس جبر سے آزاد کرائیں جو اس پر مسلط کیا گیا ہے اگر ہمیں اپنے آپ کو بچانا ہے تو ایک تحریک ایسی شروع ہونی چاہیے جس میں معاشرے کے تمام طبقے شامل ہوں مگر شاید خوف کی فضاء کے باعث یہ نہیں ہو پا رہا، مظہر عباس نے کہا کہ گواد رمیں جو واقعات ہورہے ہیں وہ میڈیا سے غائب ہیں، 1971ء میں بھی جھوٹ بولا گیا اور اب بھی جھوٹ بولا جارہا ہے، اس پوری جنگ میں دو میڈیا گروپ کے علاوہ کوئی اور کھڑا ہی نہیں ہو پارہا، ہم لوگوں سے سچ نہیں بول رہے ہیں جو صحافی سچ بولتا ہے اسے میڈیا مالکان تحفظ نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے تو سنسرڈ شدہ اخبار نکالنے سے انکار کر دیا تھا اب ہم کب لوگوں سے سچ بولیں گے، انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں بہت مار کھائی ہے نہ صرف خود صحافیوں بلکہ ان کے گھر والے بھی متاثر ہوئے، اب آوازیں دَب رہی ہیں، ظلم کے خلاف لوگ جمع نہیں ہو رہے، وسعت اللہ خان نے کہا کہ میڈیا دو حصوں میں قطعی تقسیم نہیں ہوا بلکہ ایک ہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ جس کارخانے میں ”اصل پروڈکٹ“ بن رہی ہے تقسیم کار اس پر لیبل لگا لگاکر مزید آگے تقسیم کررہا ہے جبکہ چینل ایک ہی ہے، انہوں نے کہاکہ اب تو ٹیکرز بھی ”اسمبلڈ“ ہوکر آتے ہیں کہ کون سی خبر کتنی چلانی ہے یا اس پر کتنا تبصرہ کرنا ہے یہ سب پہلے سے طے ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کو تو کور کرسکتے ہیں مگر کسی تنصیبات پر حملہ ہوجائے تو وہ کور نہیں کرسکتے، انہو ں نے کہا کہ اگر میں مالک بن کر دیکھوں تو یہ بات کہنے میں حق بجانب ہوں کہ چینل میری پہلی محبت نہیں ہے بلکہ وہ تو میری داشتہ ہے میری پہلی محبت تو وہ انڈسٹری ہے جس کو پروان چڑھانے کے لیے اس داشتہ کو رکھا ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ اب صرف چند سالوں کی زحمت اور ہے رسمی میڈیا نہیں رہے گا کیونکہ خبر کو اب فوری طور پر کسی میڈیا کی ضرورت نہیں ہے اب تو ٹھیلے والے کو بھی پتا ہے کہ گوادر میں کیا ہورہا ہے اور یہ سب سوشل میڈیا کی وجہ سے ممکن ہو رہا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے