کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا ہے کہ شدت پسندی کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہمارے انٹلیکچول آگے آئیں، انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر جو کچھ یہاں ہوتا ہے ایسا معاشرہ ہمیں نہیں چاہیے، انسانی تاریخ نے جو سفر طے کیا ہم پیچھے جانے کو تیار نہیں ہیں، اردو کانفرنس نے اپنا دامن اور بڑا کیا ہے، دنیا بھر سے مندوبین شریک ہوئے، ہم سمجھتے ہیں پاکستان کو ایسا ہونا چاہیے تھا جیسا اس وقت آرٹس کونسل کراچی لگ رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹس کونسل آف پاکستان میں چودھویں عالمی اردو کانفرنس کی اختتامی تقریب سے کیا، انہوں نے کہا کہ جو خواب قائد اعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا وہ پورا ہو سکتا ہے۔ ہمیں ادب اور ثقافت سے محبت کرنے والوں کا استقبال کرنا چاہیے، آج نفرت کی کوئی آواز نہیں آئی، آج میں شہر کراچی سے بہت خوش ہوں کراچی نے ہجرت کر کے آنے والوں کے لیے اپنا سینہ کشادہ کیا، انہوں نے کہا کہ سب نے مجھ سے احتجاج کیا کہ یہ کانفرنس سال میں ایک بار کیوں ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے تین مختلف کمپنیز نے ہم سے خود اپروچ کیا، ہمارے تینوں اسپانسرز امروہہ کے ہیں، آج بھی ساری حکومتیں مجھے اپروچ کرتیں ہیں کہ ہمارے ساتھ کام کرو، تمام اداروں نے ہم سے گزارش کی ہے اس کانفرنس کو موونگ کانفرنس بنا دیں، ہم ادبی شخصیات۔ دانشور کسی پریشر گروپ کو اجازت نہیں دیں گے یہ ہارمونی خراب کرنے کی، انہوں نے بتایا کہ بڑے بڑے شاعروں کو کوئی نہیں سنتا تھا، 1950ء میں زہرا نگاہ اکیلی لڑکی سفید چادر اوڑھے مشاعرے پڑھا کرتی تھی، انہوں نے کہا کہ ہم جن شخصیات کو ایوارڈز دے رہے ہیں یہ ہماری خوش نصیبی ہے، زہرا نگاہ نے ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تھا میں نے انور مقصود سے سفارش کرائی تو اس شرط پر میری بات مانی کہ میرے ایوارڈ کی رقم ادیب رضوی کے ادارے کو جائے گی، آرٹس کونسل کراچی کی جانب سے پہلا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ زہرا نگاہ کو دیا گیا، دوسرا مستنصر حسین تارڑ، تیسرا سندھی ادیب امداد حسینی اور چوتھا ایوارڈ ادیب رضوی کو دیا گیا جو انور مقصود نے وصول کیا جبکہ بی او پی نے ایوارڈ یافتہ شخصیات کو چار چار لاکھ روپے دیے، آرٹس کونسل انسٹیٹیوٹ آف آرٹس اینڈ کرافٹس کے پرنسپل شاہد رسام نے ایوارڈ ڈیزائن کیا، اختتامی اجلاس میں مجلس صدارت میں انور مقصود، زہرا نگاہ، مستنصر حسین تارڑ، کشور ناہید، منور سعید، عارفہ سیدہ زہرا، نورالہدیٰ شاہ، نعمان الحق، ڈاکٹر فاطمہ حسن، امداد حسینی، اعجاز احمد فاروقی، فرید احمد، رضوان حسین، سلمان حسین شریک تھے۔ بعد ازاں ستار نواز نفیس خان کی دھن پر بین الاقوامی شہرت یافتہ رقاصہ ناہید صدیقی نے اپنی شاندار پرفارمنس پیش کی جس کو شائقین نے بے حد سراہا اور تالیاں بجاکر داد دی، بعد ازاں قوالی ہوئی جس میں مشہور و معروف قوال فرید ایاز اور ابو محمد نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کلام پیش کیا اور سُروں کا جادوئی سماں باندھ دیا جس پر سامعین محفل جھوم اُٹھے۔