Home/اہم خبریں/پیپلز پارٹی کے حکمران پورے سندھ میں بدترین گورننس اور بدعنوانی کے ذمہ دار ہیں۔ ترجمان وزیر اعظم ڈاکٹر شہباز گل کی کراچی میں پریس کانفرنس
پیپلز پارٹی کے حکمران پورے سندھ میں بدترین گورننس اور بدعنوانی کے ذمہ دار ہیں۔ ترجمان وزیر اعظم ڈاکٹر شہباز گل کی کراچی میں پریس کانفرنس
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ترجمان وزیراعظم، معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل نے گورنر ہاؤس کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا ان کے ہمراہ قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ، اراکین سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی، ارسلان تاج و دیگر بھی شریک ہوئے۔ معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت نے دوران حکومت کس طرح اداروں کو بہتر کیا ہے، سندھ میں کراچی سے ہمیں عوام نے بھاری مینڈیٹ دیا ہے، ہمارے منتخب نمائندے جواب دہ ہیں، ہم کراچی میں کام کروا رہے ہیں کراچی کی روشنیاں بحال ہورہی ہیں، سندھ حکومت نے 13 سالوں میں سندھ کو تباہ کر دیا ہے۔ پنجاب نئے بجٹ میں 12 بڑے نئے ہسپتال 12 یونیورسٹیاں بنائی جارہی ہیں، وفاق اور پنجاب کی ترقی ہم دکھاتے رہتے ہیں لیکن آج سندھ پر بات کریں گے۔ بلاول زرداری نے الزام لگایا ہے کہ وفاق نے ٹیکس جمع نہیں کیا۔ وفاق کے ٹیکس کا بلاول زرداری کو فکر نہیں ہے۔ 18 ترمیم کے بعد ٹیکس کے مطابق صوبوں کو حصہ ملنا ہوتا ہے، وفاق نے سندھ کو 844 ارب روپے دیئے ہیں کراچی سے عیان علی و دیگر کی زریعے یہ پیسہ منی لانڈرنگ ہوجاتے رہے۔ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا پچھلے سال سندھ حکومت نے ٹیکس 128 ارب کا ہدف رکھا تھا لیکن انہوں نے 105 ارب جمع کیا، پنجاب نے ہدف سے زیادہ ٹیکس جمع کیا ہے، کے پی میں بھی ٹیکس زیادہ جمع ہوا۔ نان ٹیکس روینیو 50 ارب کا سندھ کا جمع کرنا تھا لیکن 12 ارب جمع کیا گیا۔ سندھ حکومت کی یہ نااہلی ہے، ڈاکٹر شہباز گل نے کہا سندھ حکومت ہمیشہ رونا روتی ہے کہ وفاق نے پیسے نہیں دیئے، وفاق نے پیسے دیئے ہیں لیکن عوام پر نہیں لگے ہیں سندھ میں ہسپتال اسکول تباہ ہیں جہاں گدھے بندے ہوئے ہیں سڑکیں پر گٹر بہہ رہے ہیں، جیکب آباد کا دورہ کیا تھا جہاں گدھے بندھے ہوئے تھے لگتا ہے بلاول زرداری کو کو گدھوں سے کچھ زیادہ پیار ہے۔ ڈاکٹر شہباز گل نے مزید کہا بجٹ 2020-2021 میں 155 ارب کی سندھ میں ترقیاتی اسکیمیں دی گئی تھی جس میں سے صرف 100 ارب خرچ کئے گئے، 55ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ سندھ میں موجود تھا لیکن کوئی ترقیاتی کام نہیں کروایا گیا۔ تیس ارب روپے سندھ حکومت کے پاس کیش رقم موجود تھی، اس وقت 65 ارب کیش رقم پڑی ہے جس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر شہباز گل نے مزید کہا کیا یہ کیش رقم بنک میں رکھی ہوئی ہے؟ جہاں سے کمیشن ملتی ہے؟ اگر اتنی کیش موجود تھی تو عوام پر کیوں نہیں لگائی، کتے کی ویکسین کیوں نہیں خریدی؟ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا تیس ارب بحریہ ٹاؤن سے لینے کا سندھ حکومت دعوا کر رہی ہے، سندھ میں اگلے سال کا جو ہدف ہے ٹارگٹ 24 ارب کا رکھا گیا، سندھ کی عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے ہم عوام کو بتائیں گے، سندھ حکومت عوام کے ساتھ کیا کر رہی ہے، یہ سارا پیسہ عوام کے ٹیکس کا ہے جو عوام پر نہیں لگ رہا ہے کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔ 102 ارب گزشتہ بجٹ میں سندھ پولیس کے لئے رکھے گئے پورے خرچ نہیں ہوئے، پولیس کا نظام تباہ ہے، سندھ میں ایگریکلچر کے لئے 14 ارب رکھے گئے تھے، مگر5 ارب بچا لیا گیا 10 ارب خرچ ہوئے، کراچی میں ٹریفک چالان کی مد میں 85 کروڑ روپے ملے ہیں، مگر پورے سندھ کی ایگریکلچر کا ٹیکس 61 کروڑ ہے، بڑے بڑے مگر مچھوں نے ایگریکلچر ٹیکس نہیں دیا۔ کراچی سے ٹریفک پولیس کے چالان کی مد میں ملنے والی رقم پورے سندھ سے ملنے والے زرعی ٹیکس سے زیادہ ہے۔ ڈاکٹر شہباز گل نے مزید کہا 700 ارب روپے کا بجٹ وفاق نے سبسیڈی میں رکھا ہے، احساس پروگرام سے لیکر دیگر پروگرام میں سندھ کو حصہ ملا، احساس کیش میں 32 فیصد سندھ کی عوام کو دیئے گئے، آبادی کے لحاظ سے حصہ 22 فیصد بنتا ہے، ملک میں لوٹ مار کی وجہ سے مہنگائی ہوئی، 12 ارب صرف سندھ حکومت نے عوام کو سبسیڈی پر دیئے ہیں۔ ڈاکٹر شہباز گل نے مزید کہا سندھ حکومت ہر میدان میں فیلیو رہے، سندھ میں نالیوں گٹروں کا کام بھی وفاق کو کرنا پڑ رہا ہے، 844 ارب سندھ کو وفاق سے ملے ہیں، سندھ کو حصے سے زیادہ رقم دی گئی ہے، ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ یہ پیسہ سندھ کی عوام کو دیا گیا، لیکن یہ بجٹ آیان علی جیسے لے اڑتے ہیں۔ اندرون سندھ میں بنیادی سہولہات کا سب سے بڑا فقدان ہے، ویکسین وفاق نے سب سے زیادہ سندھ کو دی ہے، سندھ حکومت نے کتے کی ویکسین تک نہیں خریدی۔ پانی چوری کے معاملے پر سندھ حکومت پیچھے بھاگ گئی، وزیر اعظم نے پانی معاملے پر کمیٹی بنائی تھی سندھ حکومت نے تحقیقات کے لئے اپنے نمائندے نہیں دیئے، کراچی میں ٹرانسپورٹ کا نظام تباہ ہے، سندھ میں 5 ارب ٹرانسپورٹ کے لئے رکھے 3 ارب خرچ کئے گئے، ایک بس بھی کراچی میں نہیں چلائی گئی، پنجاب میں تین میٹرو کی سبسیڈی صرف دس ارب ہے، بی آر ٹی ایک بہتر منصوبہ ہے جو پورے شہر کا پلان تھا، 18 ویں ترمیم کا مقصد تھا پیسہ وفاق سے صوبوں کو آئے اور لوکل باڈیز کے ذریعے عوام پر خرچ ہو، لوکل باڈیز پر 78 ارب رکھا گیا صرف 17 ارب خرچ ہوا، وفاق سے ملنے والے پیسے کا دس فیصد تھا جو خرچ بھی نہیں کیا گیا، کورونا کا سامان ویکسین سب وفاق نے سندھ کو دیا، سندھ حکومت نے کورونا کی مد میں فنڈ کہاں خرچ کیا؟ کچھ پتا نہیں ہے، سندھ کے وزراء ہماری باتوں کا جواب نہیں دیتے، سندھ کے محکمہ تعلیم میں 80 فیصد سے کم بجٹ خرچ کیا گیا، سوشل ویلفیئر میں 27 ارب میں سے 23 ارب خرچ کیاگیا، وفاق نے اس بار ٹیکس زیادہ جمع کیا ہے، سندھ کو 725 ارب وفاق سے ملے، اس بار وفاق کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے سندھ کو 844 ارب ملے، سارے صوبوں میں ہیلتھ کارڈ دیئے گئے سندھ میں نہیں دیے گئے جس میں سندھ حکومت رکاوٹ بنی ہوئی ہے، وفاق کی اچھی کارکردگی کہ وجہ سے سندھ کو زیادہ بجٹ دیا گیا جس سے سندھ کے ملازمین کو تنخواہیں بڑھائیں گئی ہیں کریڈٹ سندھ حکومت اٹھا رہی ہے، سندھ حکومت جو مانگتی ہے دیا جاتا ہے، لیکن سندھ میں عوام پر یہ پیسہ نہیں لگتا، ڈاکٹر شہباز گل نے مزید کہا 16 ہزار ووٹوں پر پی پی نے کراچی سے سیٹ دھاندلی سے جیتی، اتنے کم ووٹوں پر یونین کونسل کا چیئرمین بھی منتخب نہیں ہوتا، سندھ حکومت جھوٹ کہتی ہے کہ وفاق کورونا کی ویکسین خریدنے نہیں دیتے، ویکسین خریدنے کے لئے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں کوئی بھی خرید سکتا ہے، ہماری مکمل اجازت ہے سندھ حکومت ویکسین خرید سکتی ہے، کے پی نے اپنی موٹر وے بنائی ہے، کراچی میں بہت سارے منصوبے دیئے ہیں جو مکمل کرنے ہیں۔ سندھ حکومت کو جو وفاق نے بجٹ دیا اس میں سے آدھے سے زیادہ کرپشن کی نذر ہوگیا۔ ترجمان وزیر اعظم، معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل سندھ اسمبلی بھی پہنچے تھے ڈاکٹر شہباز گل نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ سے ان کے آفس میں ملاقات کی، پی ٹی آئی اراکین سندھ اسمبلی راجا اظہر، ارسلان تاج بھی موجود، ڈاکٹر شہباز گل نے اراکین سندھ اسمبلی سے سندھ کی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی۔