تازہ ترین
Home / اہم خبریں / پاکستان کی جیلیں دنیا کی بد ترین جیلیں بن چکی ہیں۔ چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی الطاف شکور

پاکستان کی جیلیں دنیا کی بد ترین جیلیں بن چکی ہیں۔ چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ پاکستان کی جیلیں دنیا کی بد ترین جیلیں بن چکی ہیں۔ خواتین قیدیوں کے لئے بھی موجودہ جیلیں غیر محفوظ ترین جگہیں ہیں۔ سزا کے نظام کا مطلب معاشرے کو بگاڑ سے بچانا ہے مگر بدقسمتی سے ہماری جیلوں میں جرائم کی پرورش کی جاتی ہے۔ عدالت کے ذریعے مجرموں کو قانون کے مطابق سزا سنائی جاتی ہے مگر جیلوں میں رشوت کے لیے قیدیوں کو ٹارچر کیا جاتا ہے جو قیدیوں کی اصلاح کے بجائے انہیں نفسیاتی طور پر منتقم مزاج بنا دیتا ہے جس کی وجہ سے معاشرے کو جیلوں سے پکے مجرم فراہم کئے جا رہے ہیں۔ جیل میں داخل ہوتے ہی نئے آنے والے قیدی کو لاتوں اور گھونسوں سے نوازا جاتا ہے اور موبائل پر اس کے گھر والوں سے بات کرائی جاتی ہے اور وہ التجا کرتا ہے کہ فوری رقم بھیجو تاکہ یہ مجھے بخش دیں۔ جیل کی اپنی گھناؤنی دنیا ہے۔ قیدیوں کو ملنے کے لیے آنے والے ملاقاتیوں کو جالی کے پیچھے سے ملاقات کے پیسے دینے پڑتے ہیں جبکہ ایک مخصوص کمرے میں وی آئی پی ملاقات کے وی آئی پی ریٹ ہوتے ہیں۔ جیلوں میں اصلاحی اور سماجی تنظیموں کو آسانی سے رسائی کا موقع فراہم کیا جائے کیونکہ جیل حکام کی طرف سے سماجی رہنماؤں کو قیدیوں سے ملاقات اور ان کے مسائل معلوم کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے قیدی اپنے ساتھ ہونے والے زیادتیوں سے کسی کو آگاہ نہیں کرسکتے ہیں اور اس طرح جیلوں میں رشوت اور زیادتیوں کا بازار گرم رہتا ہے۔ پاسبان کا مطالبہ ہے کہ قیدیوں کی کیٹیگری بنا کر معمولی جرائم کے مرتکب افراد کو جیلوں کی بجائے اچھی شہرت کی این جی اوز اور سماجی و اصلاحی مراکز میں رکھ کر ان کی سزا کی مدت پوری کی جائے۔ جیلوں میں خواتین، کمسن اور نشے کے عادی قیدیوں کے لیے الگ جگہ مختص ہونی چاہیئے۔ قیدیوں کی فلاح اور تعلیم کے لیے مناسب انتظام کیا جائے۔ جیلوں میں عام قیدیوں کے ساتھ تشدد لوٹ مار اور اہل خاندان سے ملاقاتوں، کھانا اور ہر سہولت کے نام پر بھاری رقومات کی وصولی کی خبروں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ اس وقت چاروں صوبوں کی جیلوں میں موجود قیدیوں میں سے 2 ہزار 192 شدید بیمار ہیں جبکہ ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کی مجموعی تعداد 5 ہزار 206 ہے۔ چاروں صوبوں میں قید 65 فیصد افراد بغیر کسی سزا کے جیلوں میں موجود ہیں۔ سندھ میں 70 فیصد، بلوچستان کی جیلوں میں 59 فیصد اور پنجاب میں 55 فیصد قیدیوں کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی عدالتوں کی جانب سے انہیں کوئی سزا دی گئی ہے۔ سندھ کی جیلوں میں سب سے زیادہ 291 کرونا مثبت قیدی موجود ہیں۔ اس وقت پاکستان کی مختلف جیلوں میں پندرہ سو سے زائد خواتین قیدی موجود ہیں۔ ان 1587 خواتین قیدیوں میں سے 267 نوعمر ہیں جبکہ 4 نابالغ ہیں۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 278 خواتین قیدی ہیں جن کے ساتھ اُن کے 64 شیر خوار بچے ہیں۔ مختلف جیلوں میں قید پاکستانی خواتین کی حالت وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ابتر ہوتی جا رہی ہے اور ان خواتین قیدیوں کی بھلائی کے سلسلے میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ان میں سے 3 خواتین موذی مرض میں مبتلا ہیں، 14 خواتین کو ٹی بی ہے اور 7 خواتین ہپٹائٹس کا شکار ہیں۔ قیدیوں کی حالت زار پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم گلوبل فاؤنڈیشن کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں خواتین قیدیوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی خاتون ڈاکٹر نہیں ہے جبکہ ملک کے بڑے شہروں میں لیڈی ڈاکٹر صرف ایک گھنٹے کے لیے جیلوں کا دورہ کرتی ہیں۔ خواتین قیدیوں میں سے متعدد ایسی خواتین ہیں جو کہ اپنی سزائیں پوری کر چکی ہیں لیکن اس کے باوجود اُنہیں رہا نہیں کیا گیا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

اسلام آباد ایونٹ سے پاکستان کی سفارتی کامیابی واضح، عوامی ریلیف اولین ترجیح ہے۔ شرجیل انعام میمن

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے