تازہ ترین
Home / اہم خبریں / سیپا نے عالمی یوم ماحول سمندر کا بہتا کچرہ صاف کرکے منایا

سیپا نے عالمی یوم ماحول سمندر کا بہتا کچرہ صاف کرکے منایا

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) عالمی یوم ماحول کے سلسلے میں ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ نے سمندر میں سے بہتا کچرہ اٹھاکر عوام کو سمندر کچرے سے صاف رکھنے کی آگہی دی، سیپا کے افسران اورعملے نے کیماڑی میں بابا جیٹی اور گابا جیٹی پر مختلف لانچوں کے ذریعے دس ناٹیکل میل کے ریڈئیس سے دس ٹن سے زائد کچرہ اٹھا کر اسے لینڈ فل سائٹ پر پہنچانے کے لیے ساحل پر کھڑی سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کی گاڑیوں میں لدوایا۔ کچرے کی صفائی کے دوران وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب، سیکریٹری محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی حکومت سندھ محمد اسلم غوری کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل سیپا نعیم احمد مغل اور دیگر اعلی افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آلودگی کو دیکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ عملی طور پر ماحول کی بہتری کے لیے کوئی کام کرکے یہ دن منایا جاۓ کیونکہ ائیر کنڈیشنڈ ہوٹلوں میں تقاریر کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ میدان عمل میں جاکر کارکردگی دکھانے کے لیے قدرے مشقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر کے بہتے پانی سے کچرہ اکٹھا کرکے اسے لینڈ فل سائٹ تک پہنچانے کا مقصد نہ صرف عوام کو اپنا سمندر صاف ستھرا رکھنے کی ترغیب دینا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ کے پی ٹی کو بھی اس بات کا احساس دلانا ہے کہ اس کے دائرہ عمل میں آنے والے سمندر سے آلودگی کی روک تھام کی بنیادی ذمہ داری اس کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا سے آنے والے جہازوں سے رسنے والے تیل نے پانی کی اوپری سطح پر تیل کا قالین بچھا دیا ہے جو کے پی ٹی انتظامیہ کو بھی دکھائی دیتا ہوگا، کے پی ٹی کو چاہیے کہ تمام بحری جہازوں اور خودکار کشتیوں کی ماحولیاتی نگرانی کرے اور انہیں تیل کا رساؤ نہ کرنے پر پابند کرے، کیونکہ اگر سیپا ان کے دائرہ عمل کے سمندر میں آلودگی کی روک تھام کے لیے کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ مذکورہ سمندری علاقہ وفاق میں آتا ہے اس لیے وہ صوبائی ماحولیاتی قانون پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیماڑی پر تفریح اور تجارتی مقاصد سے آنے والے لوگوں کو بھی چاہیے کہ اپنے سمندر کی حفاظت کریں اور اس میں کچرہ نہ پھینکیں کیونکہ ایسا کرنے سے سمندری آلودگی پھیلتی ہے جس کے باعث مچھلیاں آلودہ علاقے میں نہیں آتی ہیں اور مچھیروں کے روزگار پر منفی اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے پی ٹی زمینی معاملات سے باہر آئے اور سمندر کی حفاظت میں اپنی ذمہ داری ادا کرے، اس سلسلے میں سیپا اس کی پوری مدد کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ سمندر ہم سب کا ہے اور اس کی حفاظت بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مرتضی وہاب نے کہا کہ پہلے کراچی کے پانچ اضلاع سے سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کچرہ اٹھاتا تھا، اب اس کا دائرہ عمل گنجان آبادی والے اضلاع وسطی اور کورنگی سمیت پورے سات اضلاع میں ہے، کچھ عرصے میں عوام دیکھیں گے کہ کچرے کا مسئلہ کافی حل ہوجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچرہ جلانے کی وجہ کچرہ اٹھانے والے ہیں جو مختلف مقررہ جگہوں پر پڑے کچرے کو ادھر ادھر بکھرا دیتے ہیں اور عوام پھیلے ہوئے کچرے سے نجات حاصل کرنے کے لیے اسے جلا دیتے ہیں جو کہ ایک ماحولیاتی جرم ہے۔ پولی تھین بیگز پر لگی پابندی میں نرمی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے بتایا کہ ابتداء میں سندھ حکومت نے پابندی پر عملدرآمد کرانے کے لیے کافی سختی کی تھی، جس کے نتیجے میں قابل تحلیل پلاسٹک بیگز مارکیٹ میں متعارف ہونے لگے تھے، مگر چھوٹی دکانوں اور پتھاروں پر بدستورنقصان دہ پلاسٹک بیگز دستیاب رہے کیونکہ عوام نے مذکورہ پابندی میں اس طرح سے تعاون نہیں کیا تھا جیسا انہیں کرنا چاہیے تھا، اسی دورن کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کرنا پڑا جس میں پابندی پر از خود نرمی ہونے لگی تاہم اب حالات معمول پر آرہے ہیں اور جلد ہی پابندی پر عملدرآمد میں سختی بھی دوبارہ شروع کردی جائے گی۔ مشیر ماحولیات کا کہنا تھا کہ سیپا نے بہت ساری صنعتوں میں ٹریٹمنٹ پلانٹس لگوا دئیے ہیں اور دیگر میں بھی لگوائے جارہے ہیں، اس کے علاوہ وزیر اعلی سندھ نے کراچی کے نالوں کی صفائی کے لیے پانچ سو ملین روپے مختص کردئیے ہیں جس کی ایک قسط جاری بھی کردی گئی ہے۔ انہوں نے آخر میں بہتے پانی میں کچرے کی صفائی کی سرگرمی میں تعاون کرنے پر میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی، پاکستان ڈاک یارڈ، پاکستان نیوی، گابا اور بابا جیٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے