اسلام آباد (نوپ نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کڑوی گولی ہو گی مگر نگلنا پڑے گی۔ امریکی خبر رساں ادارے کو دئے گئے ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات کے بعد وزیر اعظم منتخب ہوا تو آئندہ برس 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کروں گا۔ امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سے ملاقات کڑوی گولی تو ہو گی لیکن کرنا پڑے گی ٹرمپ کا ٹوئٹ انتہائی توہین آمیز تھا، جس طرح امریکا نے پاکستان سے برتاؤ کیا وہ درست نہیں حالانکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ایک سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا پر 9/11 حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اہم کرادر ادا کیا ہے چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جب کہ پاکستان کسی دہشت گردی میں ملوث نہیں وہ خود اس کا خاتمہ چاہتا ہے۔ دینی مدارس کے حوالے سے ایک سوال پر عمران خان نے کہا کہ ہم لاکھوں مدرسوں کو قومی دھارے میں لائیں گے اور وہ چاہتے ہیں کہ مدرسہ گریجوئیشن طلبا کے پاس تمام صلاحیتیں ہوں تاکہ وہ کسی بھی شعبہ میں با آسانی ملازمتیں حاصل کر سکیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کڑوی گولی ہو گی مگر نگلنا پڑے گی۔ عمران خان – فائل فوٹو