کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر احتجاج کرنا، اس پر تنقید کرنا اور اس پر مظاہرے کرنا تمام سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن اس کی آڑ میں شہر اور صوبے میں لسانیت پھیلانا اور خون خرابہ کرنے کی سازش کو پیپلز پارٹی اور اس شہر کے عوام کسی صورت کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے۔ 2013 کے ایکٹ کے مقابلے اس ایکٹ میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا گیا ہے، لیکن ان عقل کے اندھوں نے اس ایکٹ کو پڑھا ہی نہیں ہے اور اگر پڑھا ہے تو اس کو سمجھا ہی نہیں ہے۔ جن جن اشیوز پر وہ اس ایکٹ کے خلاف عوام میں گمراہی پھیلا رہے ہیں وہ سراسر جھوٹ اور پروپگنڈے پر مبنی ہیں۔ ہم نے تمام اختیارات کو نہ صرف نچلی سطح تک منتقل کیا ہے بلکہ 2001 اور 2013 کے ایکٹ کے مقابلے یونین کونسلز، یونین کمیٹیوں اور ٹاؤنز کو مالی، ایڈمنسٹریشن سمیت سندھ کے 10 سے زائد صوبائی محکموں میں ان کے کردار کو یقینی بنایا ہے۔ جو لوگ بلدیاتی نظام کو برداشت نہیں کرتے آج ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ہم غلط کررہے ہیں۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم اپوزیشن کے احتجاج سے پریشان ہیں تو ہاں ہم ضرور پریشان ہیں لیکن ان کے احتجاج سے نہیں بلکہ اس احتجاج کی آڑ میں اس شہر اور صوبے میں ایک بار پھر قتل و غارت گیری اور لسانی بنیادوں پر بھائی کو بھائی سے لڑوانے کی سازشوں کے باعث ہیں۔ صوبوں کو ان کے حقوق آئین اور قانون دیتا ہے، کسی بیوقوف شحص کی ایما پر اسے روکنے یا بند کرنے کا وفاق کے پاس کوئی حق نہیں ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اپنے کیمپ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی، سینیٹر طاہر مشہدی، سینیٹر تنویر الحق تھانوی، شہلارضا، عاجز دھامرا، سلیم بندھانی، تحسین عابدی سمیت دیگر پیپلزپارٹی کے رہنما بھی موجود تھے۔سعید غنی نے کہا کہ ہم پر تنقید کی جاتی ہے کہ ہم نے اس ایکٹ میں ڈیتھ، برتھ اور شادی کے سرٹیفیکٹ کے اختیارات ان سے لے لئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں یہ اختیارات جہاں یو سی کے پاس تھے وہاں ڈی ایم سی کے پاس بھی تھے لیکن یہ اختیارات ڈی ایم سی نہیں یو سی ہی کررہی تھی اور اب بھی یہ اختیار انہی کے پاس ہے جبکہ ہم نے اس بل میں اس اختیار کو مکمل ان کو دے کر ٹاؤن سے نکال دیا ہے۔اسی طرح کچھ ٹیکسز جو ڈی ایم سیز لیتی تھی لیکن قانون میں یہ اختیار ان کے اور کے ایم سی دونوں کے پاس تھے، جبکہ یہ وصول ڈی ایم سیز ہی کرتی تھی اب اس کو مکمل ٹاؤنز کے سپرد کرکے کے ایم سی اس کو نکال دیا ہے تاکہ یوسی اور ٹاؤن مضبوط ہوں، انہوں نے کہا کہ بار بار اختیارات کا رونا رونے والے اب عوام کو گمراہ کرنے کے لئے اور ان میں لسانیت کو فروغ دینے کے لئے اس ایکٹ کو عوام کے سامنے غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس ایکٹ نے یوسی اور ٹاؤنز کے ساتھ ساتھ مئیر کو بھی مضبوط کرنے لئے اس میں اس کے اختیارات کو بڑھایا ہے اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات کو کم کیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس ایکٹ میں جہاں تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے تجاویز کو شامل کیا ہے بلکہ گورنر سندھ کی جانب سے جن جن نکات پر اعتراض کیا گیا تھا، جو کہ انہیں سیاسی جماعتوں کی جانب سے تھے اس کو بھی دور کردیا گیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ دراصل ایم کیو ایم کو اس بات کا پورا یقین ہے کہ وہ اب اس شہر کے عوام کو مزید بیوقوف نہیں بنا سکتے اور لسانیت کے نام پر سیاست کی بجائے اب وہ سیاست نہیں کرسکتے اس لئے اس ایکٹ کو آڑ بنا کر انہوں نے ایک بار اس شہر میں لسانیت کو فروغ دینے کی سازشیں شروع کردی ہیں، لیکن اب ان سازشوں کو نہ صرف پیپلز پارٹی کامیاب ہونے دے گی اور نہ ہی اس شہر کے عوام اور بالخصوص اردوبولنے والی سندھی ان کو ایسی سیاست نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم اپوزیشن کے احتجاج سے پریشان ہیں تو ہاں ہم ضرور پریشان ہیں لیکن ان کے احتجاج سے نہیں بلکہ اس احتجاج کی آڑ میں اس شہر اور صوبے میں ایک بار پھر قتل و غارت گیری اور لسانی بنیادوں پر بھائی کو بھائی سے لڑوانے کی سازشوں کے باعث ہیں۔اس موقع پر تنویر الحق تھانوی نے کہا کہ جو موقف آج پیپلز پارٹی کا ہے ہم اس کی نہ صرف تائید کرتے ہیں بلکہ ان کے اس پریشان ہونے کے خوف کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی جماعت اس شہر اور صوبے کی خیر خواہ ہوگی ہم اس کی تائید کریں گے۔ سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ ماضی میں اس شہر میں نفرت کی سیاست، لسانیت کی سیاست، دہشتگردی اور بھتہ خوری کی سیاست کرنے والوں نے اب ان کو فیل کردیا ہے، انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم، جماعت اسلامی سمیت ان تمام جماعتوں کو اس شہر کے عوام نے مسترد کردیا ہے، جس کی واحد وجہ ان جماعتوں کے ذاتی مفادات تھے اور وہ عوام کی بجائے اپنے آپ کو مضبوط کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے باعث عوام کو مزید مراعات ملیں گی اور ان کے مسائل نچلی سطح تک حل ہوں گے اور کراچی کے عوام جو امن دیکھنا چاہتے ہیں، جو اپنے بچوں کے لئے ایک بہتر شہر دیکھنا چاہتے ہیں وہ اس ایکٹ کو موقع دیں تاکہ اس شہر اور ژوبے میں ایک جانب امن قائم ہو تو دوسری جانب یہ صوبہ ترقی کرسکے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہماری پریشانی کی وجہ ہمیں واضح نظر آرہی ہے اور جس طرح لسانیت کو گلی گلی اور محلوں میں پھیلانے کی سازش کی جارہی ہے، جس طرح اس شہر کے سڑکوں اور محلوں میں بینرز لگائے گئے ہیں، جن پر مقامی اور غیر مقامی افراد کے ھوالے سے تحریر درج ہیں، جس طرح ایم کیو ایم کے لوگ پریس کانفرنسز کررہے ہیں اور جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں، یہ وہی روش ہے جو الطاف حسین کی رہی ہے اور آج یہ اسی روش پر عمل درآمد کرکے اس شہر کے عوام کو لسانیت میں جھونک رہے ہیں ہی ہماری حقیقی پریشانی کی وجہ ہے۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کم و بیش 6 بار ایوان میں اکثریتی جماعت رہی لیکن اس وقت انہوں نے اردو بولنے والوں کے ووٹوں اور مینڈیٹ کا سودا کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ضرور سیاست کرے لیکن لسانیت نہ کرے۔ 2007 میں بینظیر کی شہادت کے موقع پر کراچی میں ہونے والے فسادات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کی بھی تحقیقات کرائی جائے کہ کن کن علاقوں میں یہ فسادات اور لوت مار کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 2007 میں جو حالات تھے وہاں سوائے لیاری اور ملیر کے پورے کراچی میں کسی بھی علاقے میں پیپلز پارٹی نہیں تھی کیونکہ جو بھی پیپلز پارٹی کا نام لیتا اس کو قتی کروا دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ جن جن علاقوں میں یہ لوٹ مار کی گئی وہاں ایم کیو ایم کا راج تھا، سعید غنی نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ 12 مئی کے سانحہ کی بھی تحیققات ہونی چاہیے کہ اس کے پش پردہ کون کون تھا۔ گوادر کے ان کے دورے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات پر پیپلز پارٹی کا وفد آج گوادر میں ان مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لئے گیا تھا، جس میں خود میں بھی شامل تھا، انہوں نے کہا کہ ان کے تمام مطالبات کو ہم جائز تصور کرتے ہیں اور وفاق اور بلوچستان کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے مطالبات کو پورا کیا جائے کیونکہ اس کے بغیر اس خطے میں ترقی ناممکن ہے۔