کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ کے وزیر محنت، افرادی قوت و سماجی تحفظ سعید غنی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام آئین کے مطابق متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے قرارداد کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہےسعید غنی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پورٹ سمیت بندرگاہیں وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہیں اس لیے ان کے معاملات پر تنقید دراصل وفاقی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانے کے مترادف ہے اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر وقار مہدی اور تیمور سیال بھی موجود تھے سعید غنی نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی دنیا کے بڑے امراضِ قلب کے اسپتالوں میں شامل ہے جہاں گزشتہ سال 41 لاکھ 40 ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا گیا جن میں ایک لاکھ 19 ہزار مریض پنجاب سے تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت نے مالی دباؤ کے باوجود ترقیاتی بجٹ میں پنجاب کے مقابلے کم کمی کی اور اپنے وسائل سے زیادہ محصولات جمع کیے جبکہ 21 لاکھ مفت گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بھی جاری ہے جس میں خواتین کو مالکانہ حقوق دیے جا رہے ہیں سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں کسی نئے صوبے کی ضرورت نہیں جبکہ پنجاب میں ماضی میں نئے صوبوں کے حق میں قراردادیں منظور ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری اقدار، عوامی مینڈیٹ اور کشمیر کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤقف برقرار رکھے گی۔