تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، اب تک 8 دنوں میں 5 لوگ مار دیئے گئے 40 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ

کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، اب تک 8 دنوں میں 5 لوگ مار دیئے گئے 40 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے عادل ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے شہری گھروں کی دہلیز پر محفوظ نہیں 2022 قتل عام کا سال ثابت ہو رہا ہے ابھی تک 8 دنوں میں پانچ لوگ مار دیئے گئے ہیں چالیس سے زائد افراد زخمی کئے جاچکے ہیں اسٹریکٹ کرائم میں اضافہ ہوگیا ہے شاہ رخ سلیم کے واقعے میں ایک مسلح شخص آتا ہے نوجوان کو قتل کر کے آسانی سے فرار ہوجاتا ہے میرے حلقے میں سرے عام قتل کی وارداتیں ہورہی ہیں قاتل آزاد گھوم رہے ہیں 2019 پولیس آرڈر کے بعد پولیس سیاسی ہوچکی ہے پہلے تھانے فروخت ہوتے تھے اب ایس ایس پی اور زون فروخت ہوتے ہیں۔ ڈاکوؤں کو گرفتار نہیں کیا جارہا ہے اگر کوئی گرفتار ہوتا ہے کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے آزاد ہو جاتے ہیں جیل میں جاکر یہ ڈاکو تندرست ہوجاتے ہیں پولیس مکمل ناکام ہوچکی ہے امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کراچی میں رینجرز آپریشن کی ضرورت ہے اس کے بغیر کنٹرول نہیں ہوسکتا کیوں کہ پولیس سیاسی بن چکی ہے قانون نافذ کرنے والے وفاقی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کراچی کے شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کی خراب صورتحال پر قابو پانے کے لئے کچھ کریں۔

مزید پڑھیں: مساجد کو نہ گرانے کا قانون بنایا جائے، مساجد کو ہر قانون سے بالاتر و مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ متحدہ علماء محاذ
https://www.nopnewstv.com/a-law-should-be-made ‎

حلیم عادل شیخ نے کہا گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی گیدڑ بھبھکیاں سنائی دے رہی تھیں کہ شاید یہ لوگ کچھ نیا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور بل پاس ہونے نہیں دیں گے قومی اسمبلی میں موجود تمام اپوزیشن جماعتوں نے ملک کو لوٹا ہے اب یہ لوگ ایک جگہ جمع ہوچکے ہیں لیکن پھر بھی اپوزیشن جماعتوں کی گیدڑ بھبھکیاں کامیاب نہیں ہوئی۔ وزیر اعظم عمران خان جس طرح عوام میں میں مقبول ترین لیڈر ہیں اسی طرح ایوان کے بھی مقبول ترین لیڑ ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جو بل لارہی ہے وہ ملک و قوم کو مضبوط کرنے کے لئے ہیں، کامیابی پر وزیراعظم سمیت تمام اراکین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اپوزیشن جماعتیں لانگ مارچ کے صرف اعلان کر رہی ہیں ایوان میں ان کو اپنے اراکین بھی نہیں ملتے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا بلاول زرداری کو بتانا چاہتا ہوں ٹنڈو الہیار اور ٹنڈو جام میں آپکے والد صاحب کی بہت ساری زمینیں موجود ہیں لیکن ان علاقوں میں تین روز میں 23 روز کچے شراب پینے سے جان کی بازی ہاچکے ہیں شراب سپلائے کرنے والے بھی پیپلز پارٹی کے لوگ ہیں۔ مری میں زیادتی ہوئی افسوسناک سانحہ ہے انکوائری کمیٹی بن چکی ہے کوتاہی کرنے والوں کو ضرور سزا ملے گی۔ لیکن بلاول زرداری عوام کو جواب دیں تین دن میں 23 لوگ زہریلی شراب پینے سے کیسے جانبحق ہوئے؟ آپ نے ایک لفظ بھی اتنے بڑے واقعے پر نہیں کہا نہ طوفان آیا، نہ برفباری ہوئی پھر بھی اتنے سارے لوگ جان کی بازی ہار گئے اس واقعے کی زمہ داری سندھ پولیس، اور ایکسائز پولیس ہے ہوم منسٹر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ہیں جبکہ ایکسائز کے منسٹر مکیش کمار چاولا ہیں یہ لوگ واقعے کے زمہ دار ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے سندھ بھر میں کرونا وبا پھر سے پھیل رہی ہے سندھ حکومت کو وفاق کی جانب سے ویکیسن مہیا کی گئی سندھ حکومت ویکسینیشن پر زور دینے کے بجائے لاک ڈاؤن کی تیاریاں کر رہی ہے کراچی ملک کا معاشی حب ہے پیپلز پارٹی کی حکومت چاہتی ہے کراچی کو بند کر دیا جائے تاکہ وفاقی حکومت بحرانوں کو شکار ہو۔ حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ میں بلدیاتی کالے قانون کے خلاف کل ہفتہ کو کراچی پریس کلب پر جوائنٹ اپوزیشن کی جانب سے ایک بھرپور احتجاج کیا جائے گا 12 جنوری کو پورے سندھ میں احتجاج کیا گیا تھا ہفتہ کو پی ٹی آئی، ایم کیو ایم جی ڈی کی کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ لوکل گورنمنٹ بل پاس کرانے کا مقصد ہی تھا کہ ان کو پولیٹیکل انجنیئرنگ کرنی ہے انہوں نے ٹاؤنز بنا کر شہروں پر قبضہ کرنے کی سازش کی ہے ٹاؤن ٹوڑ کر اربن رورل ایریا کو جوڑا ہے میرے حلقے کا ایک ٹاؤن بنا دیا ہے لوکل گورنمنٹ بل اور ترامیم آئین کے متصادم ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے آئین کو ایک طرف کر کے غیر قانونی بل منظور کروایا ہے جس کے خلاف ہماری تحریک جاری رہے گی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے