تازہ ترین
Home / اہم خبریں / حکمران وقت گزاری کے بجائے بھارتی آبی جارحیت کا منہ توڑجواب دیں۔ الطاف شکور چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

حکمران وقت گزاری کے بجائے بھارتی آبی جارحیت کا منہ توڑجواب دیں۔ الطاف شکور چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ حکمران وقت گزاری کے بجائے بھارتی آبی جارحیت کے منہ توڑ مقابلہ کے لئے سوشل میڈیا کو متحرک کریں۔ پاکستان کب تک ردعمل کے ذریعے آئینی ایشوز کو ایڈریس کرے گا؟ انڈس کمشنر جماعت علی شاہ ملک کے مفادات کو بھارت کو بیچ کر چلا گیا، اسے انٹر پول کے ذریعے گرفتار کر کے ملک میں لا کر سکھر بیراج پر پھانسی دے کر ایک ہفتہ تک لاش لٹکا دی جائے۔ انڈس واٹر کمیشن کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا جائے۔ ان لوگوں نے پاکستان کا مستقبل بھارت کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ پاکستان دنیا کے دس خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے جہاں اگلے پچیس سال میں قحط کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی ستر فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے۔ جب پینے کا پانی نہیں ملے گا تو زراعت کے لئے پانی کہاں سے لائیں گے؟ آبی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے چھوٹے ڈیمز بنائے جائیں۔ بارش کا پانی محفوظ کرنے کے لئے انتظامات کئے جائیں۔ بلین ٹری سونامی کہاں ہے؟ درخت لگیں گے تو پاکستان کا موسم بہتر ہوگا اور بارش کا پانی بھی دستیاب ہوگا۔ کراچی میں درخت دنیا کی اہم ترین سطح پر ہیں، اس کا تدارک کیا جائے۔ گرین بیلٹ تحفظ ایکٹ بنایا جائے۔ پاکستان کو عالمی فورموں پر بھارتی بد عہدیوں کا پردہ چاک کرتے رہنا چاہئیے تاکہ بھارت کا سیاہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جا سکے۔ پاسبان اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث معطل ہونے والے آبی مذاکرات پر گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ ‘1960 کا سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت سمیت خطے میں امن کا ذریعہ ہے۔ معاہدے کے تحت بھارت ان دریاؤں پر ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اور ڈیمز کی تعمیرات سے 6 ماہ قبل پاکستان کو معلومات فراہم کرنے کا پابند ہے۔بھارت سیلاب سے متعلق معلومات کے تبادلے، کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے دورے، سالانہ اجلاس اور نئے منصوبوں کے حوالے سے معلومات فراہم کیے جانے سے متعلق اپنے وعدوں سے انحراف کررہا ہے۔ بھارت متنازع کشن گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر پاکستانی ماہرین کو دورہ کرانے کا بھی پابند ہے جس پر وہ متعدد درخواستوں کے باوجود 2014 سے انکار کر رہا ہے۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اس لئے وقت آگیا ہے کہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔بھارتی عزائم پاکستان کے لئے وارننگ ہیں، پاکستانی حکام خواب غفلت سے جاگ جائیں۔ سیلابی اور بارشی پانی کو محفوظ کرنے کے لئے حکمت عملی بنائی جائے۔پانی کے ضیاع پر جرمانے عائد کیے جائیں۔ سندھ پہلے ہی پانی کی کمی کی شکایت کر رہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک بارش کا پانی محفوظ کرکے اپنی سو فیصد ضروریات پوری کرتے ہیں، میٹھے اور بارشی پانی کو ذخیرہ کرنے کی استعداد پیدا کی جائے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے