تازہ ترین
Home / اہم خبریں / اگر عمارتیں غیر قانونی ہیں تو ہمیں سنا بھی جائے، نقصان اٹھانے والے عوام کو بھی نہیں سنا جارہا۔ چیئرمین آباد فیاض الیاس کی متاثرین کے ہمراہ پریس کانفرنس

اگر عمارتیں غیر قانونی ہیں تو ہمیں سنا بھی جائے، نقصان اٹھانے والے عوام کو بھی نہیں سنا جارہا۔ چیئرمین آباد فیاض الیاس کی متاثرین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) تجاوزات مہم کے معاملے پر آباد اور متاثرین نے پریس کانفرنس کی، چیئرمین آباد فیاض الیاس نے کہا کہ کراچی شہر کو بچانے کے لیے آئے ہیں، غریب لوگ چالیس پچاس سال سے مقیم ہیں، ہر طرح کی قانونی دستاویزات موجود ہیں، لینڈ ڈپارٹمنٹ اور ریونیو سمیت 17 این او سیز لے کر عمارتیں تعمیر کی گئیں اگر عمارتیں غیر قانونی ہیں تو ہمیں سنا بھی جائے، نقصان اٹھانے والے عوام کو بھی نہیں سنا جارہا، شہر 54 فیصد کچی آبادیوں پر مشتمل ہے، تعمیراتی صنعت نہ ہوتی تو یہ تناسب 80 فیصد ہوتا، چیف جسٹس گلزار احمد کا اپنا شہر ہے، شہر کو بہتر بنانے کے لیے اچھے فیصلوں کی ضرورت ہے، آپ کے فیصلوں سے لوئر کلاس کو نقصان ہو رہا ہے، ان عمارتوں کی خلاف کیوں آرڈر کیے جارہے ہیں جو تمام قانونی تقاضے پورے کرکے تعمیر ہوئیں، عمارتیں آباد ہونے کے بعد این جی اوز کے کہنے پر عمارتوں کو غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے، کراچی کے لیے ہونے والے آرڈرز کے زریعے کراچی کو سوچی سمجھی سازش کے تحت برباد کیا جارہا ہے، ماسٹر پلان نہ بننے کی سزا متعلقہ اداروں کو دی جائے، کاروباری طبقہ اور شہریوں کو سزا نہ دی جائے، اس وقت کیے گیے فیصلوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، گجر نالہ کی آبادی لیز اور قانونی ہے، رہائش دینا ریاست کی زمہ داری ہے، بغیر سنوائی کے آلہ دین کو منہدم کرنے کا حکم جاری کر دیا، مالکان کو سنا تک نہیں گیا، اس وقت فیصلے منٹوں اور گھنٹوں میں ہو رہے ہیں، یہ فیصلے تعمیرات کی صنعت اور کاروبار کے لیے ناقابل قبول ہیں، قانون سے بالاتر فیصلے نہ کیے جائیں، نسلہ ٹاور کے مکینوں کو سنا جائے، قانونی دستاویزات موجود ہیں اسکے باوجود ایکشن لیا جارہا ہے، باقاعدہ اپروول کے بعد بلڈنگیں بنائی گئیں ہیں، لیگل بلڈنگ بنتی ہے اسکو بعد میں غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، جس پر الزام ہے اسکو بھی سنا جاتا ہے، مگر ہمارے وکلا اور عوام کو نہیں سنا گیا، چالیس سال سے رہنے والے کو بھی نہیں سنا گیا، کراچی میں کسی بھی قسم کا انفراسٹیکچر موجود نہیں، تعمیراتی صنعت آج جو موجود ہے وہ بلڈرز نے بنائی ہے، ہر محاذ پر کنسٹرکشن انڈسٹری کو تباہ کیا جارہا ہے، تمام لیگل فارمیٹیز پوری کرنے والوں کو کیوں تنگ کیا جارہا ہے، بلڈنگ ایک ہفتے ایک دن میں نہیں بنتی، جب بلڈنگ آباد ہوجاتی ہے تو پھر ایکشن کیوں لیا جاتا ہے، کراچی کا ماسٹر پلان نہیں، کون ہیں جو کراچی کا ماسٹر پلان نہیں بننے دیتا ہے، گجر نالے سمیت تمام رہاشی آبادیوں کے حوالے سے فیصلوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، الہ دین پارک کا آرڈر دینے سے قبل الاٹیز کی بھی بات سننی چاہئی تھی، منٹوں اور گھنٹوں میں فیصلے کئیے جارہے ہیں، کراچی کے لیے عدالتی فیصلے ناقابل قبول ہیں، سیلانی ٹرسٹ کے مولانا بشیر فاروقی اور آباد کے چیئرمین فیاض الیاس ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین ناصر حیات مگوں، فردوس شمیم نقوی، محسن شیخانی شریک تھے، پریس کانفرنس میں نسلہ ٹاور کے مکین اور پویلین اینڈ کلب اور آلہ دین پارک کی انتظامیہ بھی شریک ہوئی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے