Home / آرٹیکل / کورونا ویکسین لگواٸیں یا دھکے کھاٸیں؟ تحریر: سلمان احمد صدیقی

کورونا ویکسین لگواٸیں یا دھکے کھاٸیں؟ تحریر: سلمان احمد صدیقی

کورونا ویکسین لگواٸیں یا دھکے کھاٸیں؟

 تحریر: سلمان احمد صدیقی

اس وقت سندھ اور کراچی میں جزوی لاک ڈاؤن کی کیفیت ہے۔ کورونا کی چوتهی لہر سے بےانتہا خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔ کراچی میں انڈین وریینٹ بہت تیزی سے لوگوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ اسی صورتِحال کی پیشِ نظر صوبائی حکومت نے سندھ بھر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا اور ساتھ ساتھ کراچی کی عوام کو سخت پابندیوں کی زنجیروں میں جگڑ دیا۔ ان پابندیوں کے ڈر سے جب کراچی کی عوام نے ویکسینیشن سینٹرز کا رخ کا تو بد انتظامی کی زندہ مثاليں قاٸم ہوٸیں۔ عوام کا سمندر دیکھ کر کراچی ایکسپو سینٹر میں قاٸم ویکسینیشن سینٹر اور دیگر ویکسينیشن سینٹرز کی انتظاميہ کے ہاتھ پاؤں پھُول گئے۔ گھنٹوں گھنٹوں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے کے باوجود بھی عوام اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروباری سرگرمياں بند ہونے پر عوام ویسے ہی پریشانی اور قرب میں مبتلا ہیں اور اس پر ویکسینیشن سینٹرز میں ویکسين لگوانے کے لیے دھکے کھانا کسی عذاب سے کم نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتنی تعداد میں لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا اور سماجی فاصلے کا خیال نہ رکھنا کیا کورونا پھیلنے کا سبب نہیں بنے گا۔ سندھ گورنمنٹ کو اس بات کا نوٹس لے کے ایسے اقدامات کرنے چاٸیے جو عوام کے حق میں بہتر ہوں۔ زیادہ سے زیادہ ویکسینیشن سینٹرز قاٸم کریں تاکہ لوگوں کا رش نہ ہو۔ کراچی کی آبادی ساڑهے تین کڑوڑ سے کم نہیں ہے اسی حساب سے یہاں پر ویکسينیشن سینٹرز کا قیام ہونا چاٸیےجوکہ چوبيس گھنٹے فعال ہوں۔ اسی طرح حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، لاڑکانہ اور سندھ کے دیگر شہروں اور گاؤں دیہات گوٹھوں میں ایسا نظام قاٸم کرنا چاٸیے جہاں لوگوں کو ویکسين لگوانے میں پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ بلکہ میری تجویز یہ ہے کے جیسے پولیو کی ویکسين گھر گھر پلائی جاتی ہے اسی طرح کورونا کی ویکسين بھی گھر گھر لگائی جاۓ۔ اس سے عوام بھی پریشانی سے محفوظ ہوجائیں گے اور ویکسینیشن کا کام بھی بخوبی مکمل ہوجاۓ گا بلکہ پنجاب میں یہ عمل شروع ہوچکا ہے۔ حکومت کا کام عوام کے لیے سہولت اور آسانیاں پیدا کرنا ہے ناکہ عوام کو مشکلات سے دوچار کرنا۔ نظام کی بہتری ہی عوام کو مشکلات سے محفوظ کر سکتی ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اتنے برے حالات میں بھی سرکاری اداروں کی لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ ایک مہنگائی پھر کورونا پھر لاک ڈاؤن پھر کاروبار بند پھر ساٸیں سرکار کی پابندیاں اور پھر ویکسين لگوانے جاٸیں تو ویکسين لگواٸیں یا دھکے کھاٸیں؟؟۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

سینیٹر عرفان صدیقی۔ اسلام آباد، راولپنڈی انتظامیہ توجہ دے۔۔۔کالم نگار: سید سردار احمد پیرزادہ

یہ ایک برس سے بھی کم کی بات ہے جب کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور راولپنڈی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے