کراچی (نوپ نیوز) ملک کی معروف نیورولوجسٹ اور مرگی کے مرض کی ماہر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ پارکنسز ڈیزیز جسے عام طور پر رعشہ کا مرض کہا جاتا ہے عموماََ 50 سال کی عمر کے بعد لاحق ہوتا ہے۔ اس مرض میں ہاتھوں کا لرزنا اور کانپنا، جسم کا سست پڑ جانا اور جسم کی حرکت میں کمزوری اور سستی کا آجانا، آگے کی طرف گرنا اور چلنے میں لڑکھڑاہٹ کا ہوجانا ہے۔ یہ مرض آہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے مگر یہ قابل علاج ہے۔ اگر اس مرض کو بروقت تشخیص کرلیا جائے تو ہمارے بزرگ بہت اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔ رعشہ کے مرض کا صحیح اور باقاعدہ علاج کیا جائے تو اکٹرے ہوئے، کمزور اور بستر پر پڑے ہوئے بزرگ چلنے پھرنے کے قابل بن سکتے ہیں اور محتاجی کی زندگی گزارنے سے بچ سکتے ہیں۔ وہ پشاور میں ”پارکنسز ڈیزیز“ پر منعقدہ ورکشاپ میں شریک نیورولوجسٹ، ماہرنفسیات اور ڈاکٹرز سے خطاب کر رہی تھیں۔ یہ ورکشاپ معالجین کی آگاہی کیلئے منعقد کی گئی تھی۔
ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا اس ورکشاپ میں شرکت کا مقصد معالجین کو یہ آگاہی فراہم کرنا تھی کہ رعشہ کے مرض کی تشخیص کے بعد دستیاب ادویات مریض کو کس طرح شروع کرانی چاہئے اور کتنی مقدار میں دی جانی چاہئے تاکہ ان کو زیادہ فائدہ ہو اور وہ ادویات کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رہیں۔ دماغ میں سبسٹینیا نگرا وہ جگہ جہاں سے ڈوپامائن بنتی ہے اور جسم کی حرکات و سکنات کے کنٹرول میں مدد کرتی ہے۔ رعشہ کے مرض میں اس کی کمی ہوجاتی ہے جس سے رعشہ اور جسم اکڑ جاتا ہے اور سست ہو جاتا ہے جس کے لئے ڈوپا، کاربڈوپا، لووڈوپا، اگونسٹس ادویات دی جاتی ہیں۔