کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک اور باب الاسلام کہلانے والے صوبہ سندھ میں حوا کی بیٹی محفوظ نہیں ہے۔ یہاں کے جاگیردار راجہ داہر اور عوام محمد بن قاسم کے ماننے والے ہیں۔ سندھ کی بیٹیوں کی جانیں اور عزت و ناموس اپنے گھروں اور درسگاہوں میں غیر محفوظ ہوجانا سندھی ٹوپی اور اجرک کی توہین ہے۔ اب بات کرپشن سے بڑھ کر عام آدمی کی عزت تک پہنچ چکی ہے۔ شاہ رخ جتوئی کو ایک غیرتمند بھائی کے قتل پر بروقت پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تو آج کی سندھ دھرتی کی لاکھوں بیٹیاں محفوظ ہو جاتیں۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نہ تو جمہوریت پسند ہے اور نہ لبرل بلکہ یہ کرپٹ اور عیاش افراد کا ایک ٹولہ ہے جو کہ سندھ پر جعلی مینڈینٹ کے ذریعے 50 سال سے قابض ہے۔
حکمران اگر بیٹیوں کی حفاظت نہیں کر سکتے تو کرسیوں سے کیوں چمٹے بیٹھے ہیں؟ دادو کی ایک اور بیٹی پروین رند نے ہوس کے پجاریوں کے ظلم و ستم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سندھ حکومت، پولیس اور انتظامیہ کہاں ہیں؟ پروین رند کو فوری انصاف دیا جائے اور ظالم و بدکردار ڈائریکٹر کو برطرف کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ ایسے بھیانک واقعات میں ملوث مجرم ہر گز قابل معافی نہیں ہیں۔ خواتین کے ساتھ پے درپے ہونے والے عصمت دری کے واقعات کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ پاسبان اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں پیپلز میڈیکل یونیورسٹی بینظیر آباد (نوابشاہ) کی طالبہ پروین رند کو ڈائریکٹر کی جانب سے جنسی ہراسانی پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین اور پی کیو آئی کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے نمائندے سندھ کو اپنی جاگیر اور عوام کو اپنی رعایا سمجھتے ہیں۔ شفاف الیکشن ہوں تو پی پی پی کے ڈھول کا پول کھل جائے گا۔
کیا سندھ میں غریب کی بیٹیاں، وڈیروں کی جاگیریں اور چراگاہیں ہیں؟ کیا ریاست بیٹیوں کو تحفظ دینے کی پابند نہیں ہے؟ کب تک بیٹیاں درندوں کی ہوس کا نشانہ بنتی رہیں گی اور سندھ کی صوبائی حکومت منہ پر مہر لگائے اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو تحفظ فراہم کرتی رہے گی؟ پروین رند نامی طالبہ کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات پر پردہ ڈالنے کے لیے بچیوں کو قتل کر کے مشہور کیا جاتا ہے کہ اس نے خود کشی کی ہے۔ پروین رند سمیت تمام بیٹوں کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ظلم کے اس نظام کو اکھاڑ کر پھینکنے کے لئے پاسبان کے کارکنان پر عزم ہیں۔