چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) ثقافت کسی بھی قوم کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔ چترال کے لوگوں نے سینکڑوں سالوں سے اپنی ثقافت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ شادی بیاہ ہو یا پھر کھیل یا میلہ اس میں لوگوں کا خون گرمانے کیلئے ضرور ثقافتی شو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ موسیقی کے ان اوزار میں ڈھولک، ستار، شہنائی، طبلہ اور جیری کین شامل ہیں۔ ثقافتی شو میں ڈھولک کی تھاپ یا ستار کی سُر پر نہ صرف جوان لوگ رقص کرتے ہیں بلکہ بوڑھے لوگ بھی بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتے ہیں۔
یہ فنکار لوگ رقص کو دیکھ کر اس کے مطابق موسیقی پیش کرتے ہیں۔ اس میں سب سے دلچسپ پہلو صدیوں پرانی بندوق اور تلوار کے ساتھ رقص ہوتا ہے جسے لوگ بہت شوق سے دیکھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ قیاس محمود پچھلے دس سالوں سے شہنائی بجاتا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فن کے ذریعے شہنائی کی سریلی آواز سے پوری دنیا کو امن کا پیغام پہنچانا چاہتا ہوں۔
پورے ملک میں چترال کے مثالی امن کا راز اس بات میں پنہاں ہے کہ یہاں کے لوگ اپنی ثقافت سے محبت کرتے ہیں اور جو قومیں اپنی ثقافت کو بھول جاتی ہیں وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ چترال کے بوڑھے اور جواں یکساں طور پر اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔