کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول نے پہلے ہی کہا تھا کہ پی ٹی آئی پشاور سے پروان چڑھی اس کا زوال بھی پشاورسے ہوگا۔ سندھ میں کوئی نیا بلدیاتی نظام نہیں آیا ہے بلکہ 2013 کے اس بلدیاتی نظام جس کے تحت انتخابات ہوئے تھے اس کو بہتر کرنے کے لئے اس میں ترامیم کی گئی ہیں۔ عوام نے جس طرح خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کا بلدیاتی انتخابات میں جنازہ نکالا ہے، اسی طرح سندھ، پنجاب سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں آنے بلدیاتی انتخابات میں اس کا جنازہ مزید دھوم دھام سے نکالے گی۔ اس ملک کے عوام بالخصوص نواجوانوں کے پاس امید کی واحد کرن اب بلاول بھٹو زرداری ہے، جو تمام عوامی اشیوز پر کھل کر بات کرتا ہے۔ اس موقع پر نواب زادہ نصر اللہ خان کے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی مظفر گڑھ نواب زادہ افتخار حسین، سابق رکن قومی اسمبلی علی راشد، سابق رکن سندھ اسمبلی سلیم بندھانی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ کے پی کے بلدیاتی انتخابات کے مکمل نتائج آنے باقی ہیں اور کئی مقامات پر نتائج کو روکا گیا ہے، لیکن آنے والے نتائج کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو کی یہ بات درست ثابت ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی پشاورسے پروان چڑھی اور اس کا زوال بھی پشاور سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جو نتائج آئے ہیں ان میں وفاق اورصوبائی وزراء کی مداخلت کو لوگوں نے رد کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے پی کے میں خود بھی گئے، وزراء نے دھمکیاں دی لیکن عوام نے ان سب کو رد کر دیا اور کے پی کے سے پی ٹی آئی کا جنازہ نکال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے نتائج میں اپوزیشن جماعتوں کو پی ٹی آئی کے مقابلے تین سے چار گنا زیادہ ووٹ پڑا ہے اور اگر سب جماعتیں ملکر لڑتی تو شاید ان کوملی ہوئی نشستیں بھی نہ ملتی۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے کے نتائج سے پی ٹی آئی کا پنجاب اور سندھ میں کیا حشر ہوا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں اکثر لوگ کہتے ہیں نیا بلدیاتی نظام نہیں آیا ہے اور اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں نے بینرز بھی آویزاں کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سندھ میں کوئی نیا بلدیاتی نظام نہیں لائے ہیں بلکہ 2013 کے نظام میں بہتری لانے کے لئے ترامیم کی گئی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اپنے آپ کو کراچی کا ٹھیکیدار بتانے والی ایم کیو ایم آج اس ملک میں بدترین مہنگائی، بجلی کی قیمتوں میں بے جا اضافے، گیس کے بحران، ادویات، پیٹرول، گھی، تیل، چینی اور آٹے سمیت تمام روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے بعد بھی خاموش ہے لیکن وہ بلدیاتی بل کو لے کر لوگوں میں لسانیت اور تعاصب پھیلانے کے معاملے میں آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص نواجوانوں کا نام لے کر تبدیلی کے نعرے لگا کر کسی کے کاندھوں پر حکومت میں آیا اس کا عوام نے اپنے ووٹوں کی طاقت سے جنازہ نکال دیا ہے تو یہ لسانی تعصب پھیلانے والوں کو بھی اب گھر بھیج دیں گے۔ اس موقع پر نواب زادہ افتخار علی خان نے کہا کہ پنجاب کے اندر پیپلز پارٹی کا گراف بلند ہوا ہے اور گذشتہ ہونے والے 2 سے 3 ضمنی انتخابات میں دیگر تمام سیاسی جماعتوں کی نسبت ووٹوں کی تعداد میں کئی سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اس ملک کی معیشت کے ساتھ ساتھ اس ملک کی زراعت جس پر 70 فیصد ہماری اکنامی کا انحصار ہے اس کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور صورتحال یہ ہے کہ ہم جن جن زراعت میں جن جن فصلوں میں خود کفیل تھے اب یہ اشیاء باہر سے منگوانی پڑ رہی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اتفاق ہے کہ کل ہی کے پی کے کی اسمبلی نے شوکت ترین کو سینیٹر مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوکت ترین بطور شخصیت ایک اچھے انسان ہیں لیکن ان کی مثال یہی ہے کہ رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اگلا قربانی کا بکرا وہ نہ بن جائیں جیسا کہ مہنگائی کا الزام لگا کر حفیظ شیخ اور بعد ازاں حماد اظہر کا بکرا بنا دیا گیا تھا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ عوام باشعور ہے اور وہ اپنا ووٹ دے کر ثابت کرتے ہیں کہ وہ کس کی پالیسیوں اور کسی کی حکومت پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو یہ ثابت ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی پالیسیوں سے خوش ہیں اور کے پی کے کے عوام نے ان مافیاز کی حکومت کو مسترد کرکے ثابت کر دیا ہے کہ اس ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کے ذمہ دار عمران نیازی اور اس کے مافیاز پر اب وہ زیادہ اعتماد نہیں کرسکتے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ میں آج میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ایم کیو ایم کا سنجیدہ ووٹ بینک ہے اور اگر کسی جماعت کے پاس ووٹرز اور ان کا ووٹ بینک ہو تو اس سے بات چیت کے لئے ہمیشہ تیار ہیں۔ لیکن لسانی اور تعصب کی سیاست کرنے والوں کے لئے ہم کسی قسم کی سنجیدگی نہیں رکھتے ہیں۔ فواد چوہدری کے بیان پر انہوں نے کہا کہ ذلت آمیز شکست کے بعد بھی اگر کوئی اس کو اپنی فتح قرار دے تو یہ شخص کس کے ساتھ کتنا مخلص ہے یہ ظاہر ہوتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ خان صاحب کا ریکارڈ ہے کہ جس بات کا انہوں نے نوٹس لیا ہے اس کا کیا حشر ہوا ہے اس لئے اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ دوسرے مرحلے میں وہ خود اس کو دیکھیں گے تو یہ تو بہت اچھا ہوگا اگر وہ پہلے مرحلے میں خود دیکھ لیتے تو آج جو چند ایک سیٹیں ان کو ملی ہیں وہ بھی نہ ملتی۔ گورنر سندھ کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ گورنر صاحب تو قانون کے تحت اپنا چپراسی بھی ٹرانسفر نہیں کرسکتے۔ وہ آج جو کچھ کر رہے ہیں اور جس طرح غیر آئینی طور پر بیانات دے رہے ہیں ان کا چہرہ عوام کے سامنے عیاں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر صاحب کو عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے اور وہ جس طرح کررہے ہیں اس سے ان کا کردار سامنے آرہا ہے۔