کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقدہ چودہویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز تیسرے سیشن میں ”بچوں کا ادب اور نئی دنیا“ کے عنوان سے منعقدہ نشست میں مقررین نے بچوں کے ادب کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر لکھنے والوں کی طرح بچوں کے ادب پر کام کرنے والے قلم کاروں کو بھی اہمیت دی جائے، دیگر موضوعات پر لکھنے بڑے ادیبوں کو بھی کچھ وقت بچوں کے ادب کو دینا ہوگا،، حکومتی سطح پر بھی بچوں کے ادب کو اہمیت دی جانی چاہیے اور جس طرح دیگر شعبہ جات سے وابستہ افراد میں تمغے پیش کیے جاتے ہیں اسی طرح بچوں کے ادب پر بہت عمدگی سے کام کرنے والے افراد کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے، تقریب کی صدارت معروف شاعر اور دانشور محمود شام نے کی جبکہ بچوں کے ادب سے وابستہ قلم کاروں علی حسن ساجد، سلیم مغل اور رومانہ حسین نے بھی خطاب کیا، نظامت کے فرائض شمع زیدی نے انجام دیے، اس موقع پر وجیہہ وارثی کی کتاب ”جنگلستان“ کی رونمائی بھی کی گئی، تقریب کے صدر محمود شام نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ چودھویں عالمی اردو کانفرنس میں بچوں کے ادب کو آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے اہمیت دی ہے یہی وجہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اس تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ بچوں کا ادب صرف رنگ بھرنے یا پہلیاں بوجھنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس آگے کی طرف جانا چاہیے، یہ بات بہت ضروری ہے کہ پرائمری تعلیم ہی سے تربیت پر زیادہ توجہ دی جائے، انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دکانوں پر بچوں کی کتابوں کا ایک گوشہ مخصوص ہوتا ہے، کیونکہ وہاں کی دنیا میں یہ بات بخوبی سمجھی جاتی ہے کہ بچپن ہی میں قوم کی کامیابی یا ناکامی کی بنیاد رکھی جاتی ہے، وہاں ریاست ماں بھی ہے اور باپ بھی، والدین اگر اولاد کی تربیت میں کوتاہی یا غفلت برتتے ہیں تو ریاست بچے کی بہتر پرورش کے لیے اپنی تحویل میں لے لیتی ہے، علی حسن ساجد نے کہا کہ جب تک بچے موجود ہوں تب تک بچوں کا ادب بھی زندہ رہے گا، انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ بچوں کی نفسیات سے واقف ہوں تاکہ وہ ان کے لیے درست اشیاء کا انتخاب کرسکیں، 17 ویں صدی میں ایسی تخلیقات شائع ہوئیں، جو بڑوں کے علاوہ بچوں کو بھی متاثر کرتی تھیں، انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر بچوں کے ادب کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے، اس وقت تقریباً 30 سے 35 بچوں کے رسالے شائع ہوتے ہیں مگر یہ بات بہت دکھ کی ہے کہ آج تک کسی بھی قومی کانفرنس میں بچوں کے ادیبوں کو نہیں بلایا گیا اور نہ ہی بچوں کے ادب پر کام کرنے کے لیے انہیں حکومتی سطح پر کوئی تمغہ دیا گیا، سلیم مغل نے کہا کہ بچوں کا ادب ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے جبکہ بچے اور ان کا ادب ہماری ترجیح ہونی چاہیے کہانیاں کتنی اہم ہوتی ہیں اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ذرائع نقل و حمل موجود نہیں تھے تو اس وقت بستی بستی کی کہانی ایک دوسرے کے علاقوں میں سنائی جایا کرتی تھی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فطرت نے کہانی سنانے کے عمل کو بچے کی تربیت کے لیے پہلے ہی سے شامل کر دیا ہے، رومانہ حسین نے کہا کہ بچوں کو نصیحت کرنے کے لیے ٹیکسٹ بک بہت ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اچھی باتوں کو دلچسپ پیراہے میں اس طرح بیان کیا جائے کہ وہ بچے کو نصیحت نہ لگے بلکہ بچے کے لیے اس میں کچھ سوچنے کی گنجائش چھوڑ دی جائے۔