کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا اقدام خوش آئند ہے۔ پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر مزید صوبے بنانے کے لئے ریٹائرڈ ججز پر مشتمل آزاد اور غیر جانبدار کمیشن بنایا جائے۔ علیحدہ صوبے لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بنائے جائیں۔ پاکستان کی آبادی اور رقبے کو مد نظر رکھتے ہوئے بیس سے زائد صوبے بنائے جاسکتے ہیں۔ زیادہ صوبے بنانے کی وجہ سے کوئی بھی صوبہ احساس محرومی کا نعرہ نہیں لگا پائے گا جس سے ملک دشمن عناصر کی بیخ کنی ہوگی۔ صوبوں کو خود مختاری دی جائے لیکن انہیں وفاقی پالیسیوں کا پابند بنایا جائے تاکہ یکساں تعلیمی نظام پورے ملک میں نافذ کیا جا سکے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے انتظامی امور چلانے سے متعلق جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بننے کے بعد جو مراعات دوسرے صوبوں کو حاصل ہیں مثلا وفاق میں نمائندگی اور این ایف سی وغیرہ، اسے بھی حاصل ہو سکیں گی۔ علاوہ ازیں وہ تمام اقدامات جو جنوبی پنجاب کی ترقی کے لئے ازحد ضروری ہیں وہ بھی بروئے کار لائے جا سکیں گے۔ عوام کو ریلیف دینے کے لئے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ نئے صوبے بننے سے سیاست پر کرپٹ سیاستدانوں اور وڈیرہ شاہی و لٹیرا شاہی کی گرفت کمزور ہو جائے گی اور اس طرح موروثی سیاست کا خاتمہ بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ چھوٹے صوبے بننے کے بعد علیحدگی پسند تحریکیں بھی خودبخود دم توڑ جائیں گی۔ پڑوسی ملک بھارت میں آزادی کے بعد سے عوامی مطالبات پر نئے صوبے بنانے کا عمل آج تک جاری ہے، اس کی تقلید کی جائے۔ بڑے صوبوں کی وجہ سے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ملی بھگت کے ذریعے ملک میں عملی طور پر دو جماعتی نظام قائم کر رکھا تھا۔ پہلے ١٩٨٨ سے 1999 تک اور اس کے بعد 2008 سے 2018 تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے باریاں لی ہیں اور یہی وہ عرصہ ہے جس میں ہوشربا کرپشن نے جنم لیا اور ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب کر آزاد خارجہ پالیسی بنانے کے حق سے محروم ہوگیا۔ اس وقت پاکستان کا عام شہری کرپشن اور اقرباء پروری کی وجہ سے اپنے مکان، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور مناسب خوراک جیسی بنیادی سہولتیں بھی اپنے اہل خانہ کو فراہم کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ نئے صوبوں کے قیام سے مقامی قیادت کو اپنے اپنے علاقوں کے مسائل حل کرنے کا موقع ملے گا۔ نئے صوبوں کو عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کیلئے بنایا جانا چاہیئے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ اداروں کو مضبوط اور خود مختار بنایا جائے۔ اس وقت سب سے زیادہ سہولیات کا فقدان دیہی علاقوں میں ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے دیہی تو کیا شہری علاقوں کے لوگ بھی علاج معالجے کے لئے سول ہسپتال اور جناح ہسپتال کراچی آنے کے لئے مجبور ہیں جو سندھ اور بلوچستان کے سیاستدانوں کے لئے شرمناک ہونا چاہیئے۔ مسلم لیگ نے تیس برس پنجاب پر حکمرانی کی ہے لیکن انہوں نے جنوبی پنجاب کو اس لئے علیحدہ صوبہ نہیں بننے دیا کیونکہ وہ اپنے اقتدار میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہتے تھے۔