Home / اہم خبریں / پشاور سے چترال آنے والی فلائنگ کوچ حادثے کا شکار۔ 3 مسافر زخمی۔ فلائنگ کوچ میں 18 مسافر سوار تھے

پشاور سے چترال آنے والی فلائنگ کوچ حادثے کا شکار۔ 3 مسافر زخمی۔ فلائنگ کوچ میں 18 مسافر سوار تھے

چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) آج صبح پشاور سے چترال آتے ہوئے ایک فلائنگ کوچ ویگن جس میں 18 افراد سوار تھے چترال کے مقام سید آباد میں بڑے پھتر سے ٹکرا کر اچانک الٹ گئی جس کی اطلاع ریسکیو 1122 چترال کنٹرول کو صبح 4 بجکر 10 منٹ پر دی گئی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم موقعے پر پہنچی اور زخمیوں کو ریسکیو 1122 کے ایمبولینس میں فرسٹ ایڈ دیکر ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال منتقل کیا۔ فلائنگ کوچ ویگن میں 18 افراد سوار تھے جن میں تین افراد زیادہ زخمی تھے اور باقی افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ زخمیوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں بانس نذر اور اس کی بیٹی جن کا تعلق اپر چترال یارخون سے ہے اور حسینہ بی بی کا تعلق بھی اپر چترال تورکہو سے ہے اس کے ساتھ کوئی مرد بھی نہیں تھا اور وہ اکیلی سفر کررہی تھی جس کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ واضح رہے کہ پشاور سے چترال مسافر گاڑیاں اکثر رات کے تاریکی میں سفر کرتے ہیں جو اس قسم کے حادثات کے شکار ہوتے ہیں چند سال قبل لواری ٹاپ پر بھی ایک کوسٹر الٹ گئی تھی جس میں تیرہ افراد جاں بحق ہوئے تھے اور تریچ سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین کے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی اس حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ جس کے خلاف عوامی حلقوں نے بار بار آواز اٹھائی کہ ان پر پابندی لگایا جائے مگر اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ نیز ضلعی انتظامیہ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پشاور سے آنے والے مسافروں کو لواری کے قریب عشریت میں قرنطینہ مرکز میں ٹھرائے جاتے ہیں یا دروش کے قرنطینہ مرکز میں تاکہ ممکنہ کورونا وائرس کی وباء چترال میں نہ پھیلے مگر اس سے معلوم ہوا کہ یہ مسافر براہ راست پشاور سے آرہے تھے اور انتظامیہ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایک گاڑی میں صرف دو سے چار سواری تک بیٹھ سکتے ہیں مگر اس فلائنگ کوچ میں 18 سواری غیر قانونی طور پر بیٹھے تھے اور انتظامیہ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی یا انہوں نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو چھوڑ دیا جس سے کورونا کی وباء یہاں بھی پھیل سکتی ہے۔ چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے اس بات پر نہایت مایوسی اور برہمی کا اظہار کیا کہ اگر انتظامیہ حکومتی پالیسی کی خود خلاف ورزی کرکے اٹھارہ مسافروں کو رات کے تاریکی میں ایک ہی گاڑی میں بغٖیر کسی روک ٹوک کے چترال میں چھوڑتے ہیں تو اس سے اس خطرناک وباء کا یہاں پھیلنے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے کیونکہ اگر حکومت نے کروڑوں روپے کا ریلیف گرانٹ بھیجا ہے وہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: کورونا وائرس کی وبا ایک آزمائش۔ دنیا بھر میں پھیلنے والی یہ وبا آخر ہے کیا؟ تحریر: عائشہ فاروق
https://www.nopnewstv.com/corona-virus-epidemic-a-test/

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے