کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ اربوں روپے خرچ کر کے بنائی جانے والی ٹائیگر فورس سیاسی مفادات کے حصول کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث جب کہ لوگ بھوک اور بیروزگاری کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر کھانے اور کمانے والے دیہاڑی دارا فراد ایک وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو گئے ہیں تب ہمارے ملک کے وزیر اعظم کو عوام کے مفادات کے بجائے اپنی پارٹی کے سیاسی مفادات کے تحفظ کی فکر لاحق ہو گئی ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے اس نازک موقع کو سیاست چمکانے کے لئے استعمال نہ کیا جائے، پی ٹی آئی کی ذیلی این جی او ٹائیگر فورس کو پوری قوم مسترد کر دے گی۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی اور محب وطن عوامی حلقوں کی جانب سے تجویز کردہ و قومی رضاکار فو رس بنائی جائے جس میں ملک بھر کی یونین کونسلز کے موجودہ اور سابق کونسلر، پروفیسرز، وکلاء، تاجر برادری کے نمائندے، ہر پارٹی، ہر مسلک اور سول سوسائٹی کے اچھی شہرت کے حامل لوگ شامل ہوں۔ اس بنیاد پر بنائی جانے والی فورس کو عوامی پزیرائی ملے گی، ملکی خزانے اور بیرون ملک سے جمع ہونے والی اربوں کھربوں روپے کی امداد ضائع ہونے کے بجائے جائز اور مستحق افراد تک پہنچ سکے گی۔قومی رضا کار فورس میں شامل ہونے والے تمام افراد خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر ملک و قوم کے لئے کام کریں گے اور مستحقین کو امداد ان کی دہلیز تک پہنچانے میں کامیاب ہوں گے۔ ایسے نازک اور مشکل وقت میں جب کورونا وائرس نے معاشی طور پر مضبوط ریاستوں کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے، وزیر اعظم کی جانب سے تعمیراتی شعبہ کے لئے مراعاتی پیکج اور اپنی پارٹی کے ورکرز پر مشتمل پہلے سے مشہور نام ٹائیگر فورس بنانے سے ملک کے عام اور غریب مزدورکو کیا فائدہ ہوگا؟ قوم کو شیروں اور ٹائیگروں کی نہیں، مخلص خدمت گاروں کی ضرورت ہے۔ اگر عوام کی فلاح و بہبود مطلوب ہے تو صحت، تعلیم اور ماحولیات پر توجہ دی جائے۔ حکومت ابھی تک کوئی انقلابی معاشی پالیسی مرتب نہیں کر سکی جس سے معیشت کے سنبھلنے اور بھوک و بیروزگاری کے مارے عوام کی بھلائی کی امید کی جاسکے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ ان حالات میں جب کہ دنیا کورونا اور دوسرے عوامل کی وجہ سے معاشی سُست روی کا شکار ہے۔ لاک ڈاؤن سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں، لاکھوں لوگ بیروزگار ہو گئے ہیں۔ عوام فاقہ کشی کے بعد اب خودکشی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، حکومت اربوں روپے خرچ کر کے ٹائیگر فورس بنا کر بدنامی مول لینے کے بجائے قومی رضاکار فورس بنائے۔ معیشت کی بہتری اور عام آدمی تک حقیقی ریلیف پہنچانے جیسے دلیرانہ اقدامات کرے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے ملک پر مسلط کردہ معاشی غارتگر کورونا سے زیادہ خطرناک ہیں، ان کے خلاف حب الوطنی کی ویکسین استعمال کی جائے۔ جب لاک ڈاؤن کے باوجود تمام یوٹیلٹی بلز باقاعدگی سے ہر گھر میں پہہنچ رہے ہیں تو ریلیف پیکج اور راشن بیگز پہنچنے کیوں ممکن نہیں ہیں؟ حکومت اگر مخلص ہے تو فوٹو سیشن پر مشتمل بیان بازیاں ختم کر کے پولیو ورکرز سے گھر گھر راشن تقسیم کرا سکتی ہے کیونکہ ان کے پاس تمام تفاصیل موجود ہوتی ہیں۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: پشاور سے چترال آنے والی فلائنگ کوچ حادثے کا شکار۔ 3 مسافر زخمی۔ فلائنگ کوچ میں 18 مسافر سوار تھے
https://www.nopnewstv.com/a-flying-coach-wagon-with/