تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کراچی گلستان جوہر میں کے ڈی اے کی زمین پر تجاوزات کی مکمل رپورٹ، پلاٹس کی تعداد اور جن ادوار میں ان پلاٹس پر قبضے ہوئے اس دوران جو افسران وہاں متعین تھے ان کی مکمل فہرست آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ وزیر بلدیات سندھ

کراچی گلستان جوہر میں کے ڈی اے کی زمین پر تجاوزات کی مکمل رپورٹ، پلاٹس کی تعداد اور جن ادوار میں ان پلاٹس پر قبضے ہوئے اس دوران جو افسران وہاں متعین تھے ان کی مکمل فہرست آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ وزیر بلدیات سندھ

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر بلدیات سندھ و چیئرمین گورننگ باڈی (کے ڈی اے) سعید غنی کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بلاک 6 گلستان جوہر میں کے ڈی اے کی زمین پر تجاوزات کے حوالے سے مکمل رپورٹ، پلاٹس کی تعداد اور جن ادوار میں ان پلاٹس پر قبضے ہوئے اس دوران جو افسران وہاں متعین تھے ان کی مکمل فہرست آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ اجلاس میں کے ڈی اے کی ٹاؤن شپ میں مختلف کیٹگریز کے پلاٹس کی قیمتوں کے تعین کے لئے ڈائریکٹر فنانس، ڈائریکٹر لینڈ اور ممبر ایڈمن کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات کی گئی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سال 2017-18 اور 2018-19 جبکہ 2016-17 کے روائس بجٹ کی منظوری محکمہ فنانس اور محکمہ قانون سے رائے کے بعد کی جائے گی اور اس وقت تک صرف تنخواؤں، پنشن،پیٹرول، میڈیکل اور بجلی کے اخراجات کے علاوہ دیگر اخراجات پر وقتی طور پر پابندی عائد کی جائے اور جب ان دونوں محکموں سے منظوری ملے تو پھر بجٹ کا استعمال کیا جائے۔ اجلاس نے (سی بی اے) کے ڈی اے مزدور یونین کی جانب سے پیش کردہ چارٹرڈ آف ڈیمانڈ میں بہت سی ڈیمانڈ کو منظور کرلیا گیا لیکن کچھ معاملات کو آئندہ گورننگ باڈی جبکہ کچھ کو بینک سے مشاورت سے مشروط کیا گیا ہے جبکہ ادارے کے غیر مسلم ملازمین میں سے ہر سال 5 ملازمین کو ان کی عبادت کے لئے فنڈز جاری کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ جمعرات کو کے ڈی اے کے مرکزی دفتر میں منعقدہ گورننگ باڈی کے اجلاس کی صدارت وزیر بلدیات سندھ و چیئرمین کے ڈی اے سعید غنی نے کی۔  اجلاس میں گورننگ باڈی کے ارکان ارکان سندھ اسمبلی راجہ عبدالرزاق، شمیم ممتاز، کمشنر کراچی افتخار علی شالوانی، ایڈیشنل سیکرٹری بلدیات جلال الدین، ڈی جی کے ڈی اے سمیع الدین صدیقی، ممبر عبدالقدیر منگی، چیف انجینئر رام چند اور مختلف ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرز موجود تھے۔ 26 نکاتی ایجنڈے پر 4 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اجلاس میں چیئرمین اور ممبران نے بجٹ سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ہم کسی صورت قانون سے بالاتر ہوکر اپنی اتھارٹیز کو نہیں چلا سکتے اور ہم چاہتے ہیں کہ تمام قواعد و ضوابط کے تحت تمام اتھارٹیز کو چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی منظوری کے لئے محکمہ فنانس اور محکمہ قانون سے رائے لی جائے اور جب تک کوئی مثبت جواب نہیں آجاتا ادارے میں ضروری اخراجات کے علاوہ تمام اخراجات کو وقتی طور پر روکا جائے۔ اجلاس میں گلستان جوہر کے بلاک 6 میں مختلف پلاٹس کے قبضے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس کی فوری تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات کی گئی۔ اجلاس میں ٹاؤن شپ، منتقلی زمین اور دیگر مد میں چارجز میں اضافے اور مختلف کیٹگری کے پلاٹس کی قیمتوں کے اضافے پر ڈائریکٹر فنانس، ڈائریکٹر لینڈ اور ممبر ایڈمن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے کر اس کی رپورٹ تیار کرکے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایات دی گئی۔  اجلاس میں کے ڈی اے کی زمین کی آرکائیز، کمپیوٹرائزڈ اور اپ گریڈیشن آف لینڈ مینجمنٹ سسٹم کو بجٹ کی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے اجازت دے دی گئی۔ اجلاس میں کمپیوٹرائزڈ ویری فکیشن برائے کاغذات، پلاٹس اور سیکورٹی فیس میں اضافے پر گورننگ باڈی نے اضافے کو عوام کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے ہدایات دی کہ اضافے کے حوالے سے جو تجویز دی گئی ہے اس کو دوبارہ تجویز کیا جائے اور اس میں خصوصاً 80 گز تک کے پلاٹس پر چارجز صفر جبکہ 120 گز پر صرف 50 سے 100 روپے چارج رکھا جائے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔ اجلاس میں پارکنگ پلازہ اور لائیز ایریا کے حوالے سے پلاٹس پر اس کو لائنز ایریا ری شٹلمینٹ پروجیکٹ کے سپرد کرنے اور اس ایجنڈے کو ان کی باڈی کے اجلاس میں بحث پر لانے کی ہدایات کی گئی۔ اجلاس میں کے ڈی اے کے تحت 4 نئے رہائشی منصوبوں کی اجازت دی گئی اور اس کی تمام فزیبلیٹی رپورٹ تیار کرکے آئندہ گورننگ باڈی میں اس کی منظوری کی ہدایات دی گئی ہے۔ اجلاس میں کے ڈی اے کے ایگزیکٹو بورڈ اور اوورسیز کمیٹی کے تشکیل میں ڈائریکٹر لینڈ کو شامل کرنے کی ہدایات دی گئی۔ جبکہ آکشن ڈپارٹمنٹ پی ایچ ایس کے ڈی اے کو کمیٹی بنا کر اس میں سیکرٹری بلدیات اور پی اینڈ ڈی سے کم از کم 18 گریڈ کے ایک ایک افسر کو شامل کرنے کی ہدایات دی گئی۔ اجلاس میں پلاٹس نمبر این-3، این -5 اور این-7 بلاک 3 گلستان جوہر کی ایکسٹرا زمین کی الاٹمنٹ کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات دی گئی۔ اجلاس میں ڈسپوزل آف ایمنیٹی پلاٹس/ انکیشمنٹ آف سیکورٹی فیس کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں محکمہ پولیس کی جانب سے ایسے 36 مقامات جن پر پولیس اسٹیشن قائم ہیں اور یہ زمین کے ڈی اے کی ہے اس کو ریگولائیز کرنے کی محکمہ پولیس کی درخواست پر باڈی کے ممبران کو بتایا گیا کہ اس میں سے 12 ایسے پلاٹس ہیں جو رفاعی ہیں جبکہ 6 پلاٹس کمرشل 2 ذاتی ملکیت اور 3 ایسے ہیں جو کے ڈی اے کے نہیں ہیں۔ اس پر گورننگ باڈی نے فیصلہ کیا کہ جو رفاعی پلاٹس ہیں ان کو اعلیٰ عدلیہ کے احکامات پر نہیں دیا جاسکتا اس لئے متبادل پلاٹس پر ان تھانوں کو منتقل کیا جائے جبکہ جو پلاٹس کمرشل ہیں اس کی مارکیٹ ویلیو معلوم کی جائے گی اور اس کے بعد محکمہ پولیس کے اعلیٰ اہلکاروں سے میٹنگ کرکے اس مسئلہ کو حل کیا جائے گا۔ اجلاس میں پولی کلینک کے ڈی اے اور ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے لئے ٹیکنیکل آفیسرز کی بھرتی کے لئے پبلک سروس کمیشن کو درخواست دینے کی ہدایات دی گئی۔  اجلاس میں (سی بی اے) کے ڈی اے مزدور یونین کی جانب سے 1997 کے بعد 2018 میں پیش کردہ چارٹرڈ آف ڈیمانڈ میں مزدوروں کے حوالے سے زیادہ تر مطالبات کو منظور کرلیا گیا جبکہ متعدد مطالبات کو قانونی مشاورت اور مختلف کو بینک سے مشاورت کے بعد آئندہ گورننگ باڈی میں پیش کرنے کی ہدایات کی گئی۔ کے ڈی اے میں اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کے قیام کی منظوری دے دی گئی، جبکہ مختلف گراؤنڈز کو این جی اوز کو گود دینے کے حوالے سے مکمل قانونی مشاورت اور تفصیلات آئندہ گورننگ باڈی کے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایات دی گئی۔ اجلاس میں تجاوزات کے خاتمے کیلئے مشینری اور دیگر گاڑیوں کی خریداری کے لئے سندھ حکومت سے گرانٹ کی استدعا کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ آفس اسٹاف کے لئے نئی گاڑیوں کی خریداری کی تجویز کو مسترد کردیا گیا۔ سرجانی ٹاؤن کے ڈی اے کی اسکیم 41 میں 12 ایکڑ زمین کو متبادل زمین پر فراہمی پر گورننگ باڈی نے اس کی تصدیق کی ہدایات دی جبکہ ادارے میں ایڈووکیٹ اور لاء ڈپارٹمنٹ کے اسٹاف کی بھرتی کے لئے اس کی مکمل فہرست بنانے اور قانون کے مطابق اخبارات میں اشتہارات کو شائع کرنے کی ہدایات دی گئی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے