کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے عدالت عظمیٰ کے سربراہ جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے بچے دو ہی اچھے کے نعرے کے تحت اب آبادی کنٹرول مہم چلانے والے اعلان کو اللہ کے نظام کو چیلینج کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس توبہ استغفار اور سب سے پھلے اپنی اصل ذمہ داری عدالتی نظام سے کرپشن کا خاتمہ اور اٹھارہ لاکھ سے زائد زیر التوا مقدمات کی شنوائی کرکے بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے آج ایک بیان میں کہا کہ دنیا میں امن و چین کا فقدان اور بھوک و افلاس سمیت دیگرمسائل کی اصل وجہ دین سے دوری ہے، الحمدللہ پاکستان تیل گیس پیٹرول اور زراعت سمیت قدرتی دولت سے مالا مال ہے اگر کوئی کمی ہے تو وہ صرف اہل دیانتدار اور خوف خدا رکھنے والی قیادت ہے، قیام پاکستان سے لیکر ابتک عوام ایسی قیادت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اپنی اولاد کو بھوک کی وجہ سے قتل نہ کرو، تمہیں بھی اور انہیں بھی ہم رزق دیتے ہیں۔ صوبائی امیر نے کہا کہ چیف جسٹس نے جس سسٹم کو شرم آنی چاہئے کہا تھا قوم منتظر ہے کہ اس سسٹم کی بہتری اور لاکھوں کی تعداد میں زیر التوا مقدمات کی داد رسی کرکے کب مظلومین کو انصاف فراہم ہوگا کیونکہ یہ ایک حقیقیت ہے کہ موجودہ عدالتی نظام میں دادا کی جانب سے داخل کئے گئے مقدمہ کا فیصلہ پوتے کو سنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سودی نظام معیشت، کرپشن، فحاشی و عریانی کا سیلاب اور مفاد پرست قیادت کی وجہ سے آج پاکستان عذاب الہٰی کی زد اور بے شمار مسائل کا شکار ہے، جس سے نجات کا واحد ذریعہ ملک میں قرآن و سنت کے نظام کا نفاذ ہے۔
![]()