کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں یومِ سرسید کو منفرد اور یادگار انداز میں منانے کے لیے مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے شرکت کی اجلاس میں تقریب کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز اور نئے خیالات پر غور کیا گیا یونیورسٹی کے چانسلر اور اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اکبر علی خان نے کہا کہ مختصر عرصے میں جامعہ نے متعدد اہم سنگِ میل عبور کیے ہیں اور یومِ سرسید کی تقریب ان کامیابیوں کو اجاگر کرنے کا بھی موقع فراہم کرے گی انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی ترقی اور توسیع کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے جن سے طلبہ اور ملازمین کو فائدہ ہوگا۔
ذاکر علی خان فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ارم اکبر علی خان نے کہا کہ ادارہ ذاکر علی خان کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے نوجوانوں کو معیاری اور قابلِ رسائی اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں خودکار کیمپس مینجمنٹ سسٹم، ڈے کیئر سینٹر، خسارے سے پاک بجٹ، نظرثانی شدہ پے اسکیل تنخواہوں میں اضافہ اور بزرگ ملازمین کے لیے ہیلتھ کارڈ سمیت متعدد اقدامات کیے گئے ہیں مستقبل کے منصوبوں میں ذاکر علی خان یونیورسٹی، لاء کالج اور نرسنگ اسکول کا قیام شامل ہے۔ رکن سندھ اسمبلی عادل عسکری نے کہا کہ سر سید یونیورسٹی جیسے ادارے تعلیم یافتہ اور مہذب نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ لٹریری آرٹ اینڈ کلچر فورم کے کنوینئر طارق سبزواری نے ادارے کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری منفی مہم کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کے مشن اور وقار کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔