اسلام آباد، (نوپ نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی مؤقف میں بار بار تبدیلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر اپنا مؤقف واضح کرے اور بتائے کہ اس کی ترجیح پاکستان ہے یا افغانستان۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت مختلف معاملات پر اپنے بیانات اور پالیسی میں تبدیلی کرتی رہی ہے، جبکہ دہشت گردی کے معاملے پر بھی جماعت کا مؤقف واضح نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی پالیسی دہشت گرد عناصر کے لیے نرم گوشے کا اظہار کرتی ہے اور خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے بجائے مبینہ طور پر دہشت گردوں کے تحفظ کی راہ اختیار کی ہے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 700 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ اقدامات نظر نہیں آئے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ’’بی ٹیم‘‘ جبکہ افغان طالبان کی ’’سی ٹیم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ملک میں امن و امان پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام کی جان و مال کا تحفظ اور دہشت گردی کا سدباب حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔