تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کے ایم سی کا 60 ارب روپے سے زائد کا متوازن بجٹ پیش، ترقیاتی منصوبوں، ملازمین کی فلاح اور ڈیجیٹل اصلاحات پر زور

کے ایم سی کا 60 ارب روپے سے زائد کا متوازن بجٹ پیش، ترقیاتی منصوبوں، ملازمین کی فلاح اور ڈیجیٹل اصلاحات پر زور

کراچی، (رپورٹ ذیشان حسین) میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کا مالی سال 2026-27 کا 60 ارب 45 کروڑ روپے سے زائد کا متوازن بجٹ سٹی کونسل میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں شہری سہولتوں کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی بہتری، ملازمین کی فلاح، تاریخی ورثے کے تحفظ اور مالیاتی نظام کی جدید خطوط پر اصلاح کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کسی نئے ٹیکس کی تجویز شامل نہیں جبکہ آمدن اور اخراجات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے 4 کروڑ 49 لاکھ روپے سے زائد کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

میئر کراچی نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران شہر بھر میں لاکھوں مربع فٹ سڑکوں کی مرمت، پیور بلاکس کی تنصیب اور سیوریج لائنوں کی تعمیر و بحالی کا کام مکمل کیا گیا نرسری فلائی اوور، جناح برج، شہید ملت روڈ اور عظیم پورہ فلائی اوور جیسے اہم منصوبے مکمل کیے گئے جبکہ ملیر میں خالد بن ولید روڈ کی تعمیر سے ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آئی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں بھی سڑکوں، پلوں، فلائی اوورز، پارکس اور کھیلوں کے میدانوں کی تعمیر و بحالی کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کے تمام اثاثوں کی جی آئی ایس میپنگ اور ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا تاکہ سرکاری املاک کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملازمین کی تنخواہوں کے بعد اب ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن بھی ایس اے پی (SAP) سسٹم پر منتقل کی جائے گی، جبکہ تمام مالی ادائیگیاں "راست” نظام کے ذریعے براہ راست بینک اکاؤنٹس میں کی جائیں گی، جس سے شفافیت اور مالیاتی نظم مزید بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کے ایم سی میں 25 برس بعد ملازمین کو باقاعدگی سے بروقت تنخواہیں مل رہی ہیں، ساڑھے گیارہ ہزار ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کی جا چکی ہے اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن کارڈ متعارف کرانے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔ فائر بریگیڈ ملازمین کو 24 سال بعد ٹائم اسکیل دیا گیا جبکہ لائف گارڈز کو بھی طویل عرصے کے بعد ترقی دی گئی میئر کراچی نے بتایا کہ شہر میں جدید ہیوی مشینری اور الیکٹرک بائیکس شامل کی گئی ہیں، کے ایم سی ہیڈ آفس میں 150 کلوواٹ سولر سسٹم نصب کیا جا چکا ہے اور مختلف مقامات پر مزید سولر منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے ویجی لینس اسکواڈ قائم کیا گیا ہے تاکہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے انہوں نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ، ڈینسو ہال، خالقدینا ہال، حسن علی ہوتی مارکیٹ اور دیگر تاریخی عمارتوں کی بحالی مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ کراچی چڑیا گھر، سفاری پارک، لانڈھی زو، پارکس، اسپورٹس کمپلیکسز اور اربن فاریسٹ منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ شاہراہ بھٹو پر ایک لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ میوہ شاہ انسینیریشن پلانٹ بھی بحال کر دیا گیا ہے۔

میئر کراچی کے مطابق کراچی ملک کا پہلا شہر بن چکا ہے جہاں ترقیاتی منصوبوں کے لیے میونسپل بانڈز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ 32 چارجڈ پارکنگ سائٹس پر پارکنگ فیس ختم کر کے شہریوں کو ریلیف دیا گیا ہے۔ بجٹ میں صحت، انجینئرنگ، میونسپل سروسز، پارکس، کھیل، ثقافت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ شہر میں ترقیاتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ کراچی کو جدید، منظم، سرسبز اور شہری دوست شہر بنانے کا عملی روڈ میپ ہے، جس کے ذریعے عوام کو بہتر بلدیاتی خدمات اور ترقیاتی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

سندھ اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے چوتھے روز حکومتی وزراء نے بجٹ کا دفاع اپوزیشن کی کڑی تنقید

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے