کراچی, (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 656 ارب 5 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں 3715 ترقیاتی اسکیموں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مجموعی ترقیاتی پروگرام میں 641 ارب 5 کروڑ 55 لاکھ روپے صوبائی ترقیاتی پروگرام جبکہ 15 ارب روپے ضلعی ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
ترقیاتی بجٹ میں بلدیاتی شعبے کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے، جس کے لیے 107 ارب 54 کروڑ 75 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس شعبے میں 972 اسکیموں کے ذریعے سڑکوں، پانی و سیوریج کے نظام، صفائی ستھرائی اور شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے گا۔
تعلیم کے شعبے کے لیے 50 ارب 12 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن کے تحت 655 ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی۔ ان منصوبوں میں نئے تعلیمی اداروں کا قیام، موجودہ اسکولوں اور کالجوں کی بحالی، جامعات کی اپ گریڈیشن اور تعلیمی معیار میں بہتری شامل ہے۔
صحت کے شعبے کے لیے 38 ارب 88 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ اس رقم سے اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، نئے صحت مراکز کے قیام، ایمرجنسی سہولیات کی بہتری اور دیہی علاقوں میں بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
آبپاشی کے شعبے کے لیے 40 ارب 98 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن سے نہروں کی مرمت، واٹر کورسز کی تعمیر اور زرعی پانی کے نظام کو بہتر بنانے کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کے شعبے کے لیے 43 ارب 64 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ زراعت کے شعبے کے لیے 13 ارب 85 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں تاکہ جدید زرعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور کسان دوست منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے۔
خصوصی ترقیاتی منصوبوں میں کراچی میگا پروجیکٹس کے لیے 14 ارب 11 کروڑ روپے، تھر کول انفراسٹرکچر کے لیے 10 ارب 20 کروڑ روپے، ایس ڈی جیز پروگرام کے لیے 2 ارب 94 کروڑ روپے اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سندھ حکومت کے مطابق ترقیاتی بجٹ کا مقصد تعلیم، صحت، پانی، ٹرانسپورٹ اور شہری ترقی کے شعبوں میں عوامی سہولیات کو بہتر بنانا اور صوبے میں پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ہے۔