کمالیہ ( ایڈیٹر نیوز آف پاکستان ۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ) باہمی ہم آہنگی افہام و تفہیم اور رواداری کو فروغ دینا وقت کا اولین تقاضا ہے۔ معاشرتی روئیوں میں مثبت تبدیلی کے ساتھ رواداری اور برداشت کے رستے کو اپنانا ہو گا۔ کیونکہ دنیا پہلے ہی عدم برداشت کے باعث بے شمار مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔ منفی روئیوں کے باعث نہ صرف خاندان بلکہ معاشرتی اقدار بھی تنزلی اور پستی کا شکار ہیں۔ یاد رہے نفرت اور عدم برداشت انتہا پسندی کا خاتمہ باہمی محبت ، برداشت اور اتفاق کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار چوہدری آرٹس سوسائٹی اینڈ کلچرل ونگ کے صدر ایم افضل چوہدری نے اپنی سالگرہ کے موقع پر کیک کاٹنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سوسائٹی کے دیگر عہدیداروں و اراکین جن میں جوائنٹ سیکرٹری محسن کمال، فنانس ایڈاوائزر رانا ناصر علی خان، میڈیا ایڈوائزر محمد شبیر رحمانی، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ایڈیٹر ملٹی میڈیا، ساجد علی ملانہ، احمد علی، عتیق الرحمٰن اور خورشید احمد نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پرتشدد تنازعات کے اس دور میں روادری اور برداشت کی اہمیت آج کے پر آشوب دور میں پہلے کی نسبت بقدر زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ ہماری یہ خوبصورت دنیا باہمی ہم آہنگی اور روادری کے ساتھ رہنے کیلئے ایک بہترین جگہ ہے۔ نفرتوں، عدم برداشت کے خاتمہ سے ہی معاشرتی اقدار میں مثبت تبدیلیوں کے ذریعے سے امن محبت رواداری باہمی افہام و تفہیم کے ثمرات سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ امن معاشرتی خرابیوں کے خاتمے کی بنیادی اساس ہے۔