ماتلی (رپورٹ: ندیم کشمیری) ٹاٶن کمیٹی ٹنڈوغلام حیدر کے تنخواہوں سے محروم مقامی ملازمین کی اکثریت نے ماتلی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ شاعر لاڑ اورنگ زیب بھٹی نے جوکہ خود بھی تنخواہ سے محروم ہیں اپنے شاعرانہ انداز میں ٹاٶن کمیٹی ٹنڈو غلام حیدر میں ہونے والی مالی لوٹ کھسوٹ کے خلاف ایک نٸے انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس موقعہ پر اورنگ زیب بھٹی اور پی پی رہنما محمد بخش کیریو سمیت روشن جگسی اور مختیار احمد نے تقاریر کیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ٹنڈو محمد خان کے پی پی کے اراکین اسمبلی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ملازمین کو تنخواہیں دلانے کا وعدہ کیا تھا مگر اب وہ مکر گٸے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ملازمین کو تنخواہیں دلاٸیں گے تو ترقیاتی کام کہاں سے کراٸیں گے۔ انہوں اپنی تقاریر میں واضع کیا کہ ٹاٶن کمیٹی کے اکاؤنٹ میں 25 کروڑ روپے سے زاٸد فنڈ موجود ہے اور ہر ماہ باقاٸدگی زیڈ او ٹی کی مد میں سے ڈیڑھ کروڑ روپے مل رہے ہیں۔ اورنگ زیب بھٹی نے انکشاف کیا کہ ہم غریبوں کو تنخواہ نہیں دیتے مگر حال ہی میں ٹاؤن کمیٹی کے چیٸرمین نے اپنے دو سگے بھاٸی اور اپنا تبادلہ کراکر جانے والے انجینٸر شعیب لاشاری نے بھی اپنے دو سگے بھائی ٹاٶن کمیٹی میں ملازم رکھے ہیں جن کو تنخواہ دی جارہی ہیں۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اب چیٸرمین اور ان کے سرپرست 20 کروڑ روپے کی این آٸی ٹی منظور کرا کر ٹاٶن کے فنڈ کو ترقیاتی اسکیموں کے نام پر ٹھکانے لگانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ سال بھی 10 کروڑ روپے ترقیاتی اسکیموں کے نام پر ٹھکانے لگاٸے گٸے تھے ان ملازمین نے چیف جسٹس سندھ ہاٸی کورٹ اور چیٸرمین نیب سے اپیل کی ہے کہ ٹاٶن کمیٹی ٹنڈو غلام حیدر میں اب تک ہونے والے فنڈ کی لوٹ مار کے خلاف مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کراٸی جائیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک 20 کروڑ روپے کی جو این آٸی ٹی کرانے کی سرتوڑ کوشش کی جارہی اس پر پابندی عاٸد کی جاٸے تاکہ فنڈ کو بندر بانٹ کی نظر ہوجانے سے بچایا جاسکے۔
![]()