میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا ہے کہ تھر میں قحط کی صورتحال کے باعث چھوٹے پیمانے پر قرض فراہم کرنے والے بینکوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ تھر کے متاثرین سے قرضے کی واپسی کیلئے رکوری مرحلے کو منسوخ کر دیں، صحرائے تھر میں پانی، صحت، تعلیم کی فراہمی اور لائیواسٹا ک پر خصوصی توجہ دینا اولین ترجیحات میں شامل ہے بند آر او پلانٹ بہت جلد کام شروع کردیں گے ان کو فعال کرنے کے لئے متعلقہ افسران کو پابند کیا گیا ہے اور 236 آر او پلانٹ دسمبر تک لگ جائیں گے اور بند واٹر سپلائی اسکیموں کے لئے ری ہیبلیٹیشن پروگرام تشکیل دیا گیا ہے زچہ و بچہ کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا تھر میں لگائی جانے والی طبی کیمپوں میں زچہ اور بچہ کی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے گی اس موقع پر انھوں نے تھر میں بچوں کے علاج معالجہ کیلئے نیشنل انسٹیٹوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے ماہر ڈاکٹروں سے مشاورت کرکے سول ہسپتال مٹھی میں بچوں کے وارڈ کو توسیع دینے کیلئے افسران کو سروے رپورٹ بنا کر دینے کی ہدایات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے تھر آنے کا مقصد یہاں کے مسائل کا جائزہ لینا اور مل کر ان کو حل کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں تھر کے دورے کے دوران دربار ہال مٹھی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا- انھوں نے کہا کہ قحط متاثرین کی آسانی کے لئے تعلقہ گداموں کے علاوہ ضلع بھر میں گندم تقسیم کرنے کیلئے 80 سینٹرز قائم کئے گئے ہیں تاکہ قحط متاثر تمام لوگوں کو گندم بآسانی ملے سکے۔ اس سلسلے میں محکمہ خوراک کے افسران کو سخت تاکید کی گئی ہے کہ اگر متاثرین میں ملاوٹ والی گندم تقسیم کی گئی تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے اور ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے میڈیکل یونیورسٹیز کوتھر کے ہر تعلقہ ہسپتال کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ تھر آکر طبی کمپس لگائیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ جلد تھرپارکر میں 500 لیڈی ہیلتھ ورکرز بھرتی کی جائیں گی۔ اور کہا کہ تھر میں غذائیت پروگرام کے ناکام ہونے کی انکوائری کروائی جائیگی کہ وہ کون سے اسباب تھے جس کی وجہ سے یہ پروگرام ناکام ہوا اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی بھی کی جائیگی۔ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ جہاں قحط کی صورتحال پیدا ہوتی ہے وہاں انسانوں کے ساتھ ساتھ مال مویشی بھی متاثر ہوتا ہے اور تھر کے لوگوں کا انحصار مال مویشی پر ہی ہے اس لئے سندھ حکومت کی جانب سے تھر میں جانوروں کو بیماریوں سے بچاؤ کیلئے ویکسینیشن کا کام جاری ہے اور جلد جانوروں کے چارے کا بھی مرحلہ شروع کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں قحط کی صورتحال ہے اس ضمن میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضلع ہیڈ کوارٹر میں رہ کر اپنا فعال کردار ادا کریں۔ تھر میں درختوں کی کٹائی کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تھر کے قیمتی درختوں کے کٹائی کی روک تھام کیلئے ضلع انتظامیہ اور ایس ایس پی تھرپارکر کو ہدایت کی ہے وہ قیمتی درختوں کے کٹائی کیلئے اپنا فعال کردار ادا کرکے ملوث عناصر کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ تھرکول منصوبے سے تھر کے مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے اور یہ منصوبہ تھر کی تقدیر بدلنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ قبل ازیں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے دربار ہال مٹھی میں تھر کی صورتحال اور درپیش مسائل کے حل کیلئے متعلقہ محکموں کے افسران اور تھر میں کام کرنے والی سماجی تنظیموں کے نمائندگان سے الگ الگ اجلاس منعقد کیں ۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تھر میں قحط کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور اس ضمن میں جو بھی درپیش مسائل ہیں انہیں ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائیگا ۔ انہوں نے سماجی تنظیموں کے نمائندگان کو ہدایت کی وہ اپنے اپنے ادارے کے کس شعبے میں کام اور تھر کے جس علاقے میں کام کر رہے ہیں ان کی رپورٹ لی جائے تاکہ مشترکہ طور پر اس صورتحال میں کام کیا جا سکے ۔ اور کہا کہ تمام سماجی ادارے آپس میں رابطے میں رہ کر تھر کی لوگوں کی بہتری کیلئے کام کریں ۔ چیف سیکریٹری سندھ کی سربراہی میں تھر کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کی 20 موبائل ٹیمیں ماہر ڈاکٹروں اور ادویات کے ساتھ روانہ کی گئیں ۔ اجلاس میں سیکریٹری لائیواسٹاک و فشریز اور فاریسٹ سید سھیل اکبر شاہ، اسپیشل سیکریٹری صحت ڈاکٹر نسیم الغنی سہتو، ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر مبین میمن، ڈویزنل کمشنر میرپورخاص عبدالوحید شیخ، ڈپٹی کمشنر تھرپارکر محمد آصف جمیل ، ایس ایس پی تھرپارکر عمران قریشی، ڈویزنل ڈائریکٹر اطلاعات میرپورخاص شفیق حسین میمن، متعلقہ محکموں کے سربراہان اور تھر میں کام کرنے والی سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی ۔
![]()