Home / آرٹیکل / کینسر قابل شکست ! تحریر: ڈاکٹر صفیہ صباحت

کینسر قابل شکست ! تحریر: ڈاکٹر صفیہ صباحت

خواتین میں بریسٹ کینسر یعنی چھاتی کا سرطان ہونے کا امکان اتنا ذیادہ ہے کہ ہر دس میں سے ایک خاتون اس مرض کا شکار ہو سکتی ہے۔ اکثر خواتین لاعلمی اور شرم کی وجہ سے اس مرض کے ہوتے ہوۓ بھی اسے اس وقت تک چھپاۓ رکھتی ہیں جب تک وہ بہت ذیادہ بڑھ جاتا ہے اور پھیل چکا ہوتا ہے-
وہ کینسر کے نام سے ڈرتی ہیں جب کہ وہ ہمت کریں تو کینسر کو شکست دے سکتی ہیں

بریسٹ کینسر اکثر ایک گلٹی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ شروع میں اس میں کوئی درد یا تکلیف نہیں ہوتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بڑھ جاتا ہے اور بعض اوقات زخم بھی بن جاتا ہے۔ یہ جڑیں بنا لییتا ہے اور کچھ وقت بعد بغل تک پہنچ جاتا ہے۔ اور دوسری چھاتی اور جسم کے دوسرے اعضا کو اپنا شکار بنا کر مریض کو موت کے منہ میں پہنچا دیتا ہے۔

خواتین میں چھاتی کے سرطان کے بیشمار عوامل ہیں جن میں
خاندانی پس منظر
ایام کی خرابی
مختلف ایکسرے کے اثرات
مختلف جنیاتی عوامل

بریسٹ کینسر کی وجہ سے اموات کی شر
میں کمی کے لئے ضروری ہے کہ اس مرض کے بارے میں ضروری
آگاہی مہیا کی جاۓ-
بریسٹ کینسر کو شکست دینے کے لئے مرض کی بر وقت تشخیص نہایت ضروری ہے۔
کینسر کی تشخیص تک پہنچنے کے لئے تین بنیادی طریقہ کار ہیں۔
1-
اپنا خود کا معائنہ جو کہ با آسانی ہرماہ کیا جا سکتا ہے اور اگر چھاتی میں کوئی گلٹی یا کوئی اور تبدیلی محسوس ہو تو فوری طور پہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروائیں۔
2-
میموگرام اور سونو میموگرام – یہ بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لئے خاص قسم کا چھاتی کا ایکسرے اور الٹرا ساؤنڈ ہے ۔
3-

ایف این اے- اس ٹیسٹ میں باریک سرینج کے ذریعے چھاتی میں موجود گلٹی کے اندر کا مواد حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے خوردبینی مشاہدے کے بعد کینسر کی تشخیص کی جاتی ہے۔
یہ تینوں ٹیسٹ بے ضرر ہیں۔ اور بر وقت تشخیص کا فائیدہ یہ ہے کہ آپ غیر ضروری اور بڑی سرجری سے بچ سکتی ہیں۔

جلد تشخیص اور بر وقت علاج شروع کرنے سے آپریشن بھی چھوٹا ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ صرف گلٹی کو نکالنا ہی کافی ہو جاۓاور کیمو اور ریڈیو تھراپی کی ضرورت بھی کم ہوجاۓ یا کچھ کیسز میں ان کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایران اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کشیدگی: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے بحران کے دہانے پر ۔۔۔ تحریر : ذیشان حسین

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے