Home / آرٹیکل / تحریر: محمد جواد بھوجیہ Grind you to the dust

تحریر: محمد جواد بھوجیہ Grind you to the dust

Grind you to the dust

تحریر: محمد جواد بھوجیہ

آج جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں عراق پر امریکی حملے کو 15 سال چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں ۔عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے 20 مارچ 2003 کو پہلا حملہ کیا یہ حملے یکم مئی تک جاری رہے، عراق کی فوج نے پہلے حملے کے بعد ہی ہتھیار ڈالنے شروع کردیے، یکم مئی کے بعد 177,194 کی تعداد میں امریکہ اور اس کے اتحادی افواج نے زمینی حملوں کا آغاز کیا اس آپریشن کو "آپریشن انڈورنگ فریڈم” کانام دیا گیا، زمینی جنگ مشکل تھی، عراق میں مختلف متحارب گروہ جو ماضی میں ایک دوسرے اور صدام حسین کیخلاف لڑتے تھے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف زمینی جنگ میں متحد ہوگئے، اتحادی افواج بغداد، فلوجہ کہ گلیوں میں جنگ ہارنے لگی، امریکی حکام سرجوڑ کے بیٹھ گئے، امریکیوں کو عراقی عوام نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، یہ ایک حقیقت ہے عراق میں صدام کے خلاف متحارب گروہ بھی امریکی مداخلت کو ناپسندیدہ عمل قرار دے رہے تھے۔

امریکہ نے عراق کے نظم و نسق کو چلانے کے لیے جنگ کے بعد ہی ایک اتھارٹی قائم کی تھی، تاہم اس اتھارٹی کے پاس اختیارات نہ تھے تمام تر اختیارات امریکیوں کے پاس تھے- 2004 مزاحمت اپنے عروج پر تھی کیونکہ اس مزاحمت کے تمام کردار ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے تھے، جہاں القاعدہ کے جہادی امریکہ کے خلاف برسر پیکار تھے وہیں ایران کی حمایت یافتہ مہدی ملیشیا بھی امریکیوں کے مقابلے کے لیے موجود تھی مزاحمت میں اس وقت ایک شخصیت نے دنیا بھر میں شہرت پائی وہ نوجوان ابو موسی الزرقاوی تھا یہ القائدہ کے فایٹر تھے جن کا نام مسلم امہ میں بطور مسیحا کے لیا جاتا تھا،عرب افریقہ، پاکستان سمیت دنیا کے بڑے مسلم ممالک کے اخبارات ان کو مسلم امہ کا ہیرو قرار دے رہے تھے، پاکستان کے ایک مشہور اخبار کے اتوار کے شمارے میں ان کے بارے میں مضمون لازمی شامل ہوتا تھا، یہ امریکہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں پہلے پانچ افراد میں شامل تھا، وہیں مہدی ملیشیا کے کئی جنگجو بھی امریکی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے ان میں ایک بڑا نام ابوعزرائیل کا تھا، ابو عزرائیل کی ٹرینگ لبنان میں ہوئی تھی یہ مہدی ملیشیا کے حضرت علی بریگیڈ کا حصہ تھے، امریکہ کے لیے مزاحمت کو فوجی طریقہ کار سے ختم کرنا ناممکن تھا امریکہ نے عراق میں الیکشن کا اعلان کیا یہ الیکشن 2005 میں ہوئے، سنی اکثریتی صوبوں نے اس کا بائیکاٹ کیا تاہم یہ 20 فیصد سے زائد نہ تھے۔

شیعہ علاقوں اور کرد علاقوں میں الیکشن کا عمل مکمل ہوا، اس الیکشن نے جہاں عراق میں جمہوری عمل کا آغاز کیا وہیں دوسری طرف متحارب گروہ ایک دوسرے کیخلاف صف آراء ہوگئے، القائدہ اور اس کی سوچ رکھنے والے جہادیوں نے الیکشن کو نہ مانا وہیں شیعہ ملیشیا اور کرد الیکشن کے حق میں تھے، یہاں پر اس دوران ایک واقعہ پیش آیا۔ امریکہ کی بدنام زمانہ بلیک واٹر کے چار اہلکار جو فلوجہ کے شہر میں الزرقاوی پر حملہ کرنے کے لیے آئے تھے عراقی عوام کے ہتھے چڑھ گئے عوام نے ان پر بے پناہ تشدد کرکے ان کی لاشیں فلوجہ کے قریبی دریا کے پل پر لٹکا دیں اس واقعے نے امریکہ کو پاگل کردیا، اس واقعے کے بعد عراق میں قائم بدنام زمانہ جیل ابوغریب میں ایک عراقی قیدی پر انسانیت سوز تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آگئی، ان واقعات نے دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ کردیا، نہ چاہتے ہوئے امریکہ نے اقتدار الیکشن کے چند ماہ بعد عراقی منتخب حکومت کو منتقل کرنا پڑا، اب امریکہ کے لیے نئی مشکل کھڑی ہو گئی ایوان کے 295 میں سے 144 ممبران نے امریکی فوجوں کو ملک چھوڑنے کے لیے قرارداد ایوان میں پیش کردی، وہیں امریکہ کو انتہائی مطلوب ابوموسی الزرقاوی ایک امریکی حملہ میں مارا گیا، واقعہ کے بعد القائدہ کا زور عراق میں ٹوٹنے لگا تاہم وہیں دوسری طرف امریکہ پر دباؤ بڑھنے لگا کہ وہ عراق سے نکل جائے امریکہ کے لیے اب دو ہی راستے تھے یا عراقی حکومت کو ختم کردے یا عراق کو ایک ایسی جنگ میں د ھکیل دے جہاں ہمیشہ عراق کو امریکہ کی ضرورت رہے، امریکہ نے دوسرا آپشن بہتر سمجھا، الزرقاوی کی موت دراصل ایک امریکی فضائی کاروائی میں ہوئی تھی تاہم امریکہ نے ایک ا انتہائی خفیہ، ترتیب کردہ منصوبہ کے تحت عراق میں موجود مہدی ملیشیا اور امریکی افواج کی مشترکہ کاروائی قرار دیا-

اس ضمن میں یاد رہے کہ اس سے قبل 2003 کے بعد عراق میں فرقہ واریت پر مبنی کاروائی کی مثال ناپید تھی الیکشن کے بعد تاہم اس کی چنگاری کسی نہ کسی طرح موجود تھی۔ 2006 کا آغاز ہوا ایک واقعے نے پورے عراق میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا دی سمارا کے تاریخی شہر میں تاریخی اہمیت کی حامل العسکری مسجد میں خوفناک بم دھماکے ہوئے جن میں شہادتیں تو نہ ہونے کے برابر ہوئیں تاہم مسجد ذمین بوس ہوگئی، عالمی میڈیا نے اسے القائدہ کی کاروائی قراد دیا تاہم اس کا کوئی مصدقہ ثبوت نہ مل سکا اس واقعہ کے بعد عراق میں خون ریز فرقہ وارانہ تصادم ہوا، جس میں ہزاروں نہیں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے، عراق میں نہ ختم ہونے والے خودکش دھماکوں کا آغاز ہوا، جو عام طور پر شیعہ اکثیریتی علاقوں میں ہوتے تھے القائدہ کی باقیات نے اب تین مختلف دوسرے گروپس کے ساتھ مل کر ا یک دفعہ پھر منظم ہونے کی کوشش کی، امریکی انٹیلی جنس حکام کا دعوی ہے کہ 2012 میں جب یہ تنظیم داعش کے ایک منظم پلیٹ فارم سے دنیا کے سامنے آئی تو یہ انتہائی تربیت یافتہ افراد پر مشتمل تھی جن میں امریکی اداروں کے مطابق صدام کے دور کی عراقی فوج کے کرنل بھی شامل تھے جن کا نام سمراخلاقی تھا جن کو عرف عام میں حاجی بکر کے نام سے جانا جاتا تھا یہ عراقی فوج کے سابق کرنل تھے، یہ گوریلا جنگ کے ماہر تھے، 2012 میں ابوبکر البغدادی نے ایک آڈیو پیغام جاری کیا اس پیغام کے دو دن بعد ہی کار بم دھما کے شروع ہوئے۔

اور دھماکوں کو وہ سلسلہ جو 2008 میں ختم ہو چکا تھا دوبارہ شروع ہوگیا، صرف دو ماہ میں 1000 کے قریب افراد مختلف دھماکوں میں مارے گئے، دھماکوں کے اس خوفناک سلسلے نے عراقی انتظامیہ کو حواس بافتہ کردیا، عراق کی ازسر نو منظم کی جانے والے فوج کا مورال گرگیا، ایک کے بعد ایک شہر پر داعش قبضہ کرتی گئی، تاہم اس کا مرکز شام کے بارڈر کے علاقے تھے، 2014 میں ان حملوں میں اس وقت تیزی آئی جب داعش نے موصل پر قبضہ کیا، اور پھر کچھ روز بعد انسانی تاریخ کا المناک واقعہ پیش آیا جب تاریخی اہمیت کے حامل سنجار شہر پر داعش کی افواج نے حملہ کیا دن بھر کی شدید جنگ میں کرد فوج پشمیر اور مقامی شہریوں نے داعش کے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور داعش پسپا ہوگئی، تاہم رات دو بجے انتہائی جدید ہتھیاروں اور خودکش حملہ آوروں کی بڑی تعدا د کیساتھ داعش نے ایک دفعہ پھر سنجار پر حملہ کیا، یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اب کرد ملیشیاء کے لیے اس کا مقابلہ ممکن نہ تھا، یہاں پر یہ ذکر ضروری ہے ہے کہ سنجار کی 90 فیصد آبادی یزیدی قوم سے تعلق رکھتی ہے جن کی تاریخ کی تفصیل آئیندہ کالم میں بیان کی جائے گی، داعش کے دہشت گردوں نے تمام مرد افراد کو قتل کیا اور خواتین اور بچیوں کو ساتھ لے گئے، اسی دوران موصل کی جامع مسجد جس کے امام نے داعش کے سامنے سرنڈر کرنے سے انکار کردیا کو بازار کے درمیان زبح کیا گیا اور داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے اسی جامع مسجد سے خلافت کا اعلان کیا، اس خونریزی کے بعد عراقی انتظامیہ فوج اور عوام میں کوئی محفوظ نہ رہ سکا، داعش کے خوف کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے عراقی کی سر زمین چھوڑ دی اور بڑی تعداد میں قریبی ممالک میں پناہ کے لیے نکل پڑے، اسی دوران عراقی قوم کی براہ راست مدد کے لیے تین قوتیں اکٹھی ہوئیں، یہ تین قوتیں، عراقی فوج، ایرانی ملیشیاء اور خاص طور پر کرد میلشیاء تھیں۔ داعش تیل کے کنووں پر مکمل کنٹرول کرچکی تھی اس کے پاس مالی وسائل کی کمی نہ تھی، داعش کو افرادی قوت بھی بہت تیزی سے میسر آرہی تھی، اب مقابلہ ایک ہاری ہوئی عراقی فوج جس کا مورال گرچکا تھا، کا داعش کے منظم انتہائی تربیت یافتہ جدید اسلحہ سے لیس یہاں تک کہ ٹینک بھی داعش کو میسرتھے-

اب اس فوج کو سب سے زیادہ سہارا ایرانی ملیشیاء کے اس حضرت علی بریگیڈ نے دیا جن کی تربیت لبنان میں 2005 ، 2006 ہوئی تھی، اس بریگیڈ کے اکثر افراد کے نام امریکہ دہشت گرد مطلوب افرد میں ڈال چکا تھا، اس میلشیاء نے داعش کے خلاف یہ جنگ انتہائی بے باقی سے لڑی عراقی فوج سے پہلے اس ملیشیاء کے لوگ فرنٹ لائن پر داعش کے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے اور داعش کو پسپائی پر مجبور کر دیتے، ایک کے بعد ا یک شہر داعش کے چنگل سے آزاد ہوتا گیا، عراقی فوج کا مورال اب بلند ہو چکا تھا جس کی بڑی وجہ یہ ملیشیا تھی، اس ملیشیاء کے اہم رکن نے دنیا بھر میں شہرت پائی، اس کا نام ابوعزرائیل تھا، داعش کے لوگ اس شخص کے نام سے بھی خائف ہیں کیوں کہ اس اکیلے کمانڈر نے داعش کے 2000 کے قریب دہشت گردوں کو میدان جنگ میں مارا ہے۔ اس کا نعرہ ہے الی تحین یعنی

grind you to the dust

ان کو لوگ عراقی ریمبو کہتے ہیں ریمبو امریکی فلموں کا ایک لازوال کردار ہے جو ایک مسیحا کے طور پر جا نا جاتا ہے۔ اب جب عراق میں داعش کا وجود ختم ہونے کو ہے دنیا اس ہیرو اور غازی کو ہمیشہ یاد رکھے گی جس نے عراقی قوم کو عراقی فوج کیساتھ مل کر ایک دہشت گرد فتنہ سے نجات دلائی جس شخص کو چند سال قبل امریکیوں نے دہشت گرد شمار کیا دراصل وہ ایک ہیرو ہے جس نے صیح معنوں میں دہشت گردوں کو خاک چھٹا دی-

۔۔عراقی قوم زندہ باد ۔۔۔ دہشت گردی مردہ باد ۔۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایران اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کشیدگی: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے بحران کے دہانے پر ۔۔۔ تحریر : ذیشان حسین

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے