تازہ ترین
Home / Home / احساس کمتری "آخرکب تک” ۔۔۔ تحریر : ارم غلام نبی (الہ آباد)

احساس کمتری "آخرکب تک” ۔۔۔ تحریر : ارم غلام نبی (الہ آباد)


الله تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ فرشتوں سے افضل اس انسان نے دنیا کے میدان میں الله کی عطاکردہ سمجھ بوجھ سے بہت ترقی حاصل کی جس کی مثال یہ شاندار جدید دور ہمارے سامنے ہے۔اس جدید دور میں شاید ہی کوئی انسان ہو گا جو ترقی کی منازل کو نہ چھونا چاہتا ہو۔ مگر افسوس اس جدید دور میں بھی بہت سے انسان احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس احساس کو پیداکرنے میں ہمارا معاشرہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ "احساس کمتری ایک ایسا احساس ہے جس میں انسان خود کو دوسروں سے کمتر سمجھتا ہے اور اسے ایسا لگتا ہے کہ وہ بہت سی چیزوں سے محروم ہے”
اگردیکھا جائے تو انسان کو بچپن ہی سے اس احساس کا شکار بنا دیا جاتا ہے۔ایک امیر خاندان میں منہ میں سونے کا چمچ لیے پیدا ہو والا بچہ اور ایک فاقہ زدہ گھر میں پیدا ہونے والا بچہ اس دنیا میں ایک ہی خواب کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں کہ وہ اس دنیا میں ایک نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرے گے اور ایک شاندار زندگی گزارے گے۔ "کیا یہ دونوں بچوں کو ایک جیسے حالات میں سے گزرنا ہو گا؟” تو یقیناً نہیں ۔امیر بچے نے سہولیات سے آراستہ ایک خوبصورت میدان میں قدم رکھا ہے جبکہ دوسری طرف غریب بچے نے ایک فاقہ زدہ سسکیوں کی بستی میں قدم رکھا ہے۔ان دونوں کی زندگی کے چیلنج الگ الگ ہیں۔ایسے میں اگر کوئی غریب بچہ پڑھ لکھ کر کچھ خوابوں کوحقیقت کر نے اور اپنی مفلوق و الحال زندگی بہتر کرنے کی کوشش میں اگے قدم بڑھاتا ہے تو ہمارا معاشرہ اسے قدم قدم پہ یہ احساس کروا دیتا ہے کہ تم کچھ کر ہی نہیں سکتے۔اگر وہی بچہ جو احساس کمتری کا شکار کچھ پڑھ لکھ کر اپنی زندگی کو بہترکرنے کے لیے اپنے لیے نوکری کی تلاش کرتا ہے تو اس کی قابلیت چیک کیے بغیر غضب خداکا یہ سوال پیش کر دیا جاتا ہے کہ "آپ کس کی سفارش پہ آئے ہیں ؟ "
ان حالات سے گزر کر ایک انسان کی خوداعتمادی کو اس قدر ٹھیس لگتی ہے کہ وہ احساس کمتری میں اس قدر قید ہو جاتا ہے کہ پھر باہر آنامشکل ہو جاتا ہے۔وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کاش وہ بھی منہ میں سونے کا چمچ لیے کسی امیر گھر کا چراغ ہوتا۔

؂تمہاری محفل میں جوچراغ ہیں
غریب کی زندگى کا خواب ہیں

ہمارا معاشرہ خواب دیکھنے والوں کا ساتھ کیوں نہیں دیتا ؟ کیوں ہم ایک ایسے شخص کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں جو حالات کو مات دینا چاہتا ہو۔خدارا اگر کسی کے لیے کچھ کر نہیں سکتے تو اس کے راستے میں کانٹے بھی مت بچھائے۔ہمارا معاشرہ کیوں دوسروں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تم کچھ نہیں کر سکتے؟ کیوں ہر دوسرا بندا احساس کمتری کا شکار ہوتا جا رہا ہے؟
آؤ آج سے ہم سب اس احساس سے نکلنے کے لیےایک دوسرے کی مدد کریں اور خود کو یہ بتائے کہ "تم کسی سے کمتر نہیں”. کوئی کسی سے کمتر نہیں کیوں کہ ہر کوئی بہت سی خداداد نعمتوں سے نوازہ گیا ہیں۔اور کوئی ایسی کامیابی نہیں جومحنت سے حاصل نہ کی جا سکتی ہو اللہ پاک سب کا حامی وناصر ہو ۔آمین یارب العالمین

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے