کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں اسٹریٹ کرائم کے بے قابو جن، منشیات فروشوں اورپولیس کے ناکافی اقدامات اور مجرمانہ خاموشی کیخلاف پاکستان فشر فوک فورم کی طرف سے گذشتہ روز مورڑو ہال سے واٹر پمپ ابراہیم حیدری تک ایک بڑی احتجاجی ریلی نکال کر دھرنا دیا گیا۔ احتجاجی ریلی کی قیادت پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین مہران علی شاہ و دیگر معززین علاقہ کر رہے تھے۔ احتجاجی ریلی میں ماہی گیروں کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں عورتوں اور بچوں نے شرکت کی، جبکہ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ تھے، جن پر ابراہیم حیدری میں اسٹریٹ کرائم کے بے قابو جن، منشیات فروشی اور پولیس کے ناکافی اقدامات اور مجرمانہ خاموشی کیخلاف نعرے درج تھے۔
اس موقع پر مظاہرین "اسٹریٹ کرائم مٹاؤ، ابراہیم حیدری میں امن بحال کراؤ، ایس ایچ او ابراہیم حیدری کو برطرف کرو، وردی موجود اہلکار لاپتہ، آئی جی سندھ پولیس ابراہیم حیدری میں فرض شناس پولیس عملدار مقرر کرو” جیسے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے۔ احتجاجی ریلی کے واٹر پمپ ابراہیم حیدری پر دیئے گئے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین مہران علی شاہ نے کہا کہ ابراہیم حیدری ایک پُرامن اور مصروف کاروباری علاقہ ہے، مگر گذشتہ چند ماہ سے ابراہیم حیدری کی گلیوں، چوراہوں اور دکانوں پر علاقہ مکینوں کو سرعام لوٹ لینا ایک معمولی فعل بن گیا ہے، جبکہ علاقہ پولیس بھی اسٹریٹ کرائم کی روک تھاک کیلئے کوئی اقدام اٹھانے کو تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عورتوں سمیت مردوں سے پیدل چلتے ہوئے موبائل فون اور پیسے گن پوائنٹ پر حاصل کر لینا، گاڑیوں کا چوری ہونا اور دیگر اس طرح کے واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کی وجہ سے ہمارے علاقے کے افراد ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو رہے ہیں اور اسٹریٹ کرائم اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ لوگ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں اور کسی شخص کا جان و مال محفوظ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا اولین فرض ہے کہ وہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے، مگر بدقسمتی سے ہم نے جنہیں اپنا محافظ بنا رکھا ہے وہی ہمارے دشمن بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابراہیم حیدری تھانہ پر مقرر پولیس عملدار مسلسل مچھلی کے شکار سے لوٹنے والے ماہی گیروں سے لوٹ مار کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں، اگر کوئی ماہی گیر پولیس کے اس مجرمانہ عمل کیخلاف مزاحمت کرتا ہے تو اُسے تھانے میں بند کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان فشر فوک فورم کو اس سلسلے میں متعدد شکایات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ایس ایچ او ابراہیم حیدری غریب اور بے قصور ماہی گیروں کو تھانے میں بند کر کے ان پر 2 سے 3 کلو چرس برآمدگی کا الزام لگا کر جیل بھیج دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابراہیم حیدری میں منشیات فروشی کا گھناؤنا کھیل ابھی تک سرعام جاری ہے، جس کی وجہ سے ہمارے نوجوان منشیات جیسی لعنت میں مبتلا ہوکر ہر جگہ زندگی اور موت کے دوراہے پر کھڑے نظر آرہے ہیں، جبکہ ابراہیم حیدری پولیس کی طرف سے آج تک کوئی خاطر خواہ کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ پولیس، ڈی آئی جی ایسٹ زون و دیگر اعلیٰ عملداروں سے مطالبہ کیا کہ ابراہیم حیدری میں اسٹریٹ کرائم کے بے قابو جن، منشیات فروشی اور ایس ایچ او ابراہیم حیدری کی مجرمانہ خاموشی کیخلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے پُرامن ماہی گیر بستی ابراہیم حیدری کو اسٹریٹ کرائم اور منشیات سے پاک کرایا جائے، بصورت دیگر ابراہیم حیدری کے ہزاروں ماہی گیر، عورتیں اور بچے ابراہیم حیدری تھانے پر مقرر کالی بھیڑوں کا محاصرہ کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔