کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ صدارتی نظام ٹرک کی بتی ہے۔ عمران خان اپنی ناکام حکومت کا ملبہ نظام پر ڈال رہے ہیں۔ صلاحیتوں کا فقدان ہو تو کوئی بھی نظام کام نہیں کرے گا۔ مبنی بر انصاف نظام ہی سے عوام کے دکھوں کا مداوا ممکن ہے۔ پاکستانی اور زیادہ پاکستانی کے فرق کو ختم کرنا ہوگا۔ سب کو "سن آف سوائل” مان کر برابری کے حقوق دینا ہوں گے۔ صدارتی نظام کے ڈول سے نہ پہلے پانی نکلا نہ اب نکل سکے گا۔ آئین پاکستان میں صدارتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کیا صدارتی نظام آئین سے بالاتر ہوکر لاگو کیا جائے گا؟ صدارتی نظام کا ڈھول پیٹنے کے بجائے متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام اور آئین و قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ متناسب نمائندگی کے نظام سے جمہوریت کے ثمرات، آبادی کے وسیع تر دائرہ تک پہنچیں گے۔ صدارتی نظام میں ایک شخص صدر بن کر آمر کے طور پر ملک و قو م پر مسلط ہو جائے گا، جو اپنی مرضی کے ہائبرڈ افراد قوم پر مسلط کرتا رہے گا۔ انتخابات سے سرمائے اور طاقت کے استعمال کو ختم کر کے متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج کیا جائے۔
پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چیئرمین اور پی کیو آئی کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ جمہوریت کا مطلب مساوی سیاسی حقوق ہیں۔ موجودہ نظام میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل نہیں ہیں اس لئے اسے جمہوری نہیں کہا سکتا۔ پارلیمنٹ تک عام آدمی کی رسائی ممکن بنائی جائے۔ ملک سے پیسے کے کھیل کو ختم کرنے کے لئے ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں سنجیدہ نہیں ہیں ان کا مفاد خرید و فروخت سے وابستہ ہے۔ یہ نظام الیکٹ ایبلز کی سیاست کا محافظ ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کی طرح پاکستان میں بھی متناسب نمائندگی کی طریقہ انتخاب کی ضرورت ہے۔ حکومت و اپوزیشن الیکٹ ایبلزاور وڈیرہ شاہی کے اثر سے باہر نکل کر انتخابی اصلاحات لائے۔ انتخابی اصلاحات ایسی ہوں جن کے دوررس نتائج ملک و قوم کے لئے فائدہ مندہوں۔ ووٹرز لسٹ تک ووٹرز اور امیدواروں کی آن لائن رسائی ممکن بنائی جائے۔ متناسب نمائندگی کا طریقہ انتخاب رائج کیا جائے جس سے پورا ملک ووٹر کا حلقہ ہواور، ووٹر دباؤ سے آزاد ہوکر ووٹ ڈال سکیں۔پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کا مطالبہ ہے کہ متناسب نمائندگی کی بنیاد پر عام انتخابات کے لئے قانون سازی کی جائے تا کہ ایک عام آدمی بھی اربوں کھربوں روپے خرچ کرنے والے امیدوار وں کاآسانی سے مقابلہ کر سکے۔ متناسب نمائندگی پر انتخابات کروا کر عوام کو اسمبلیوں میں آنے اور اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقعہ دیا جائے۔