میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) آرمی پبلک سکول پشاور میں 16 دسمبر 2014 کے قومی سانحہ کی 132 معصوم شہداء اور 9 اساتذہ و سٹاف ممبران کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت اور ان کی عظمت کو سلام پیش کرنے کیلئے ساتویں برسی کا ڈویژن کے مرکزی صحافتی ادارے ایوان صحافت میں انتہائی عقیدت و احترام سے انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا آغاز شہداء کے لیے قرآن خوانی اور دعا سے ہوا۔ شہداء کیمپ تقریب میں ڈی آٸی جی ذوالفقار علی مہر و ایس ایس پی کیپٹن (ر) اسد علی چوہدری نے یادگار شہداء پر پھول چڑھاٸے اور دعا کی۔ اس موقع پر ڈی آٸی جی و ایس ایس پی میرپورخاص نے کہا کہ ایوان صحافت کی اس یادگار شہداء کیمپ تقریب نے یہ پیغام دیا ہے کہ زندہ قومیں اپنے شہدا اور اسلاف کی قربانیوں کو کبھی نظر انداز نہیں کرتیں یہی وجہ ہے کہ آج اس کیمپ میں شہریوں نے جس جوش و ولولے سے اپنے معصوم شہداء کی یاد میں خراج عقیدت پیش کیا ہے اس نے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا ہے کہ اس قسم کے سانحات دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے، اے پی ایس میں درندگی کے دردناک واقعہ نے پوری قوم کو یکجا کر دیا، اس واقعہ کا زخم بہت گہرا تھا لیکن پاکستانی قوم اور اداروں کا عزم اس سے کہیں زیادہ بلند۔ ہم غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ ان خاندانوں کو اس نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت اور صبر عطا فرمائے۔ ہم اپنے شہیدوں کو نہ بھولے تھے، نہ بھولے ہیں اور نہ کبھی بھولیں گے۔ تقریب میں آل پراٸیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے صدر فیصل زٸی، ایپسما خازن غلام نبی چوہان، ممبرز ایگزیکیٹو کمیٹی راشد احمد اور ہدایت اللہ، جمیل پیراڈاٸز اسکول کے بچوں، دستگیری ویلفٸیر کے محمود صابری، پاکستان پیپلز پارٹی منیارٹی ونگ کے ڈویژنل صدر رمیش ڈیون کمار مالہی کے صاحبزادے، سول سوسائٹی کے محمد بخش کپری، شہزادو ملک اور ذیشان لغاری، آٹا چکی ایسوسی ایشن کے ملک احسان، ملک آصف، ملک رفیق اور گل محمد پنہور، ڈاکٹر جی ایم بگھیو، ایوان صحافت سندھڑی کے صدر وفا يار محمد شر، نادر شر، رحمت اللہ شر، علاٶالدين، عبدالرحيم، سجاد عباسی اور نور حسن چانڈيو، سرکاری و سیکورٹی افسران سمیت تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد و شہریوں نے خصوصی شرکت کی یادگار شہداء پر پھول چڑھاٸے اور دعا کی۔ مغرب کے بعد شہریوں نے یادگار شہداء پر دٸیے جلاٸے۔