تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کوئٹہ ویڈیواسکینڈل میں خواتین کی تذلیل کے مجرم کو سر عام قرار واقعی سزا دی جائے۔ عبدالحاکم قائد وائس چیئرمین پی ڈی پی

کوئٹہ ویڈیواسکینڈل میں خواتین کی تذلیل کے مجرم کو سر عام قرار واقعی سزا دی جائے۔ عبدالحاکم قائد وائس چیئرمین پی ڈی پی

کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل میں خواتین کی تذلیل کے مجرم کو سر عام قرار واقعی سزا دی جائے۔ کوئٹہ واقعہ نے تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ انسانیت کی ایسی تذلیل پر فوری انصاف کے مکینزم کی ضرورت ہے۔ ملک میں مقدمے کی طوالت کی وجہ سے گواہ اور ثبوت ضائع ہو جاتے ہیں اور قبیح جرائم میں ملوث ملزمان بری ہو جاتے ہیں، جس سے مجرموں کو شہہ ملتی ہے۔ ملک میں خواتین شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ عورتوں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ ہراساں کرنے والوں کو مثالی سزا دی جائے۔ ایسے واقعات سے دنیا کو انگشت نمائی کا موقع ملتا ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد، ہرسانی اور دیگر جرائم کی روک تھام کیلئے ملک میں کئی قوانین تو بنائے گئے ہیں لیکن عملدرآمد صفر ہونے کے سبب ہراسانی کے واقعات کا مسلسل بڑھنا باعثِ تشویش ہے۔چیف جسٹس، صوبائی حکومت، چیف سیکریٹری و دیگراعلیٰ حکام کوئٹہ واقعے میں ملوث تمام وحشی کرداروں کو بے نقاب کر کے عبرت ناک سزائیں دیں، تا کہ مستقبل میں کوئی بہن بیٹیوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ کر سکے۔ سانحہ کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے مزید کہا کہ ملک بھر کے مختلف شہروں میں جنسی زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں جو ہماری تباہ حال معاشرتی اقدار پر ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ پاکستان میں موجود 72 فیصد خواتین جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں جو ایک انتہائی خطرناک شرح ہے۔ خواتین کے حق اور ہراسانی کے خلاف نئے قوانین مرتب کرنے کیلئے کسی قسم کی قانونی معاونت اور پروفیشنل سپورٹ فراہم نہیں کی جاتی۔ جرائم بڑھ رہے ہیں تواس کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں، حکومتِ وقت اور عدلیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض کا احساس کریں اور عوام کو انصاف مہیا کریں۔ جنسی جرائم اور ہراسانی سے متعلق قوانین موجود ہیں اور حکومتی سطح پر مزید قانون سازی بھی ہوئی ہے لیکن مسئلہ ان قوانین کے بارے میں آگاہی اور ان پر عمل در آمد کا ہے اور ایسے واقعات میں دھونس، دباؤاور رشوت خوری کے ذریعے مجرم کو پولیس کی جانب سے ناجائز ریلیز فراہم کرنے کا ہے۔ حکومت کوبھرپور تشہیری مہم کے ذریعے عوام الناس کو ان قوانین کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے تاکہ معاشرے کو خواتین کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔وقت آ گیا ہے کہ وزارت انسانی حقوق اور فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی قوانین کو فعال اور تحقیقات کے عمل کو تیز کریں تاکہ کسی بھی طرح کی ہراسانی کا شکار خواتین کو جلد از جلد انصاف فراہم کیا جا سکے۔ جرم کوجرم سمجھا جائے اور اس کی رپورٹ کی جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام فرض شناسی کے ساتھ سرانجام دیں۔ عدلیہ فیصلے سنانے میں لیت و لعل اور تاخیر سے کام نہ لے کیونکہ بعض اوقات دیر سے انصاف مہیا کرنا بھی ایک جرم بن جاتا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے