کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) "مجھے قطعی پرواہ نہیں ہے کہ آنے والی نسلیں مجھ پر فخر کریں، مجھے اس بات سے فرق پڑتا ہے کہ موجودہ نسل مجھ پر فخر کرے۔ کل کو میرے پتلے پورے شہر میں لٹکے ہوں تو مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوگا” ان خیالات کا اظہار مستنصر حسین تارڑ نے چودہویں عالمی اردو کانفرنس کے سیشن ‘ اعتراف کمال’ مستنصر حسین تاڑر’ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں مستنصر حسین تارڑ کی کتاب بہاؤ کا انگریزی ترجمہ
Sorrows of Saraswati
کی تقریب رونمائی کی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میرے اندر بہت پیاس ہے کتاب کے شروع میں پرندے کی پیاس کا ذکر کیا ہے تو دراصل وہ پرندہ میں خود ہوں۔ کتاب کو تحریر کرتے وقت مجھے دیکھنا تھا کہ اگر کسی لڑکی نے کہنا ہو کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں تو وہ اس زمانے میں کس طرح اس بات کو کہے گی۔چار ہزار سال پہلے کونسی زبان استعمال کی ہوگی لہذا اس معاملے کو بیان کرنے کیلئے دراوڑی زبان کا استعمال کیا۔ ذاتی زندگی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں 82 سال کا ہوچکا ہوں اور جتنا انجوائے میں اس عہد کو کر رہا ہوں وہ میں نے جوانی میں بھی نہیں کیا۔ ناول کو انگریزی میں ترجمہ کرنے والے سفیر اعوان نے کہا کہ لوگوں نے تارڑ صاحب کے سفرنامے تو بہت پڑھے ہوں گے لیکن ان کی سنجیدہ فکشن کو واقعی سنجیدگی سے پڑھا ہو یہ نہیں کہا جا سکتا۔ مجھے لگا کہ اردو میں تارڑ صاحب کو بہت لوگوں نے پڑھا ہے لیکن انگریزی جاننے والوں کو انکی تحریر، کام اور شخص کے طور پر متعارف کرایا جائے۔ اس کتاب میں مغل دور سے قبل،، برٹش انڈیا سے قبل اور بت پرستی سے پہلے کے دور کی تاریخ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انگریزی ناول نگار ایچ ایم نقوی نے کہا کہ بہاؤ ایک انوکھا ناول ہے جو ناصرف pre historical ہے بلکہ post moderate بھی ہے، اس کا ہر صفحہ دھرتی کی حقیقت واضح کرتا ہے ایسے ناول اردو یا انگریزی کسی بھی زبان میں کم پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک فمنسٹ ناول بھی ہے۔ سیشن کے اختتام پر ایچ ایم نقوی نے ناول کا اقتباس بھی پڑھ کر سنایا جس پر شرکا داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔