کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) عالمی ادب کے تراجم سے اردو ادب کے ساتھ دیگر زبانوں کی قربت بڑھتی ہے البتہ نوبل پرائز سمیت عالمی فورموں پر ادبی سفارت کاری بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف ادیبوں نے چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری دن آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کتابوں کی رونمائی کے سیشن کے دوران مختلف کتابوں کی رونمائی کی گئی جن میں فاطمہ حسن کی کتاب اردو شاعرات اور انسانی شعور کی افضال سید، اختر وقار عظیم کی کتاب چند ہم سفر کی اختر وقار عظیم نے ارشد فاروق کی کتاب فن لینڈ کی منتخب کہانیاں کی یوسف خشک۔ علی محمد فریش کی کتاب نیلی شال میں لپٹی میں دھند کی فاطمہ حسن اور عرفان جاوید کی کتاب عجائب خانہ کی اقبال خورشید نے رونمائی کی جبکہ نیویارک سے شایع ہونے والی سہ ماہی ورثہ کی بھی رونمائی کی گئی۔ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے افضال سید نے کہا کہ قر?العین حیدر غالب کے بعد بڑی شاعرہ تھیں لیکن صنف کی وجہ سے ان کو غالب جتنی اہمیت نہیں مل سکی۔ اختر وقار عظیم نے اپنی کتاب کے متعلق خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی کی دنیا میں آغا ناصر وہ افسر تھے کہ ہر نئی آنے والی حکومت میں انہیں ملازمت سے فارغ کیا جاتا رہا ہے۔ جب جنرل ضیاء کی حکومت نے اسلامائیزیشن کا اعلان کیا تو قریش پور نے بنجمن سسٹر ز کا گانا چلایا تو جنرل نے آغا ناصر کو نوکری سے فارغ کردیا۔ اختر وقار عظیم نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو ٹیلی وڑن سے بہت دلچسپی تھی بے نظیر بھٹو نے ٹی وی پروگرام کی میزبانی بھی کی اعر وہ نیوز کی مدیرہ بھی رہی انہیں چنچل ہیروئن بنانے کے لئے بھی پیشکش کی گئی تھی۔ فاطمہ حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان زندہ ہے تو ادب زندہ ہے شاعری زندہ ہے شاعری ختم نہیں ہوتی تنقید بھی ختم نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں جب شور اٹھتا ہے تو اصل اور نقل کا فرق کرنا مشکل ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ کتاب نیلی شال میں لپٹی دھند بیک وقت شاعری اور تنقید دونوں کا محور ہے۔ یوسف خشک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مصنف عالمی اڑان رکھتے ہیں لیکن ہماری ادبی سفارت کاری بہت کمزور رہی ہے لیکن پاکستانی رائیٹرز کے ترجمے تمام زبانوں میں ہو رہے ہیں ادبی سفارت کاری عوام سے عوام تک رابطو میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اقبال خورشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نائن الیون کے بعد کے دور میں رہ رہے ہیں اور عرفان جاوید کی کتاب میں خاکہ نگاری میں ایک بہترین کتاب ہے۔