ہارون آباد کی رہنے والی جوان سال سکینہ جو اکثر ہمارے ساتھ رہتی ہمارے کسی مرید کی بیٹی تھی۔ کھلی کھلی گندمی رنگت، بیضوی چہرہ، بادام جیسی بادامی آنکھیں جن کی چمک میں سنہرے پتنگے سے اُڑتے محسوس ہوتے کمر تک آتے سیاہ بال جنھیں وہ اکثر سرسوں کے خالص تیل سے چُپڑ کر رکھتی، بُوٹے سے قد کی سکینہ کو طرح طرح کی بولیاں ٹپے ماہیئے، گیت قصے کہانیاں اتنے یاد تھے کہ ہر بچہ اس کا دیوانہ تھا۔ گود میں بٹھا کر بالوں میں انگلیاں پھیرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا ایسے میں اس کی شہد رنگ آنکھیں مستقل کسی نقطے پر مرکوذ رہتیں۔ ہلانے پر چونک کے دیکھتی ہر بار ایک طویل سرد آہ اس کے لبوں سے خارج ہوتی اور وہ ایک مخصوص فقرہ بولتی ‘‘ ہاہ بلیئ اے تینوں کی دساں تینوں کیہڑی سمجھ آنڑی اے‘‘ پھر سنا کہ اس کی شادی ہو گئی ہے اور کچھ عرصے بعد سنا اس کو ٹی بی ہو گئی ہے۔
شادی اور ٹی بی کا یہ تال میل ہماری سمجھ میں نہ آیا ۔ پھر وہ علاج کروانے آئی یا شاید لائی گئی دلہنوں والی کوئی بات اس میں نہ تھی جھلسی ہوئی رنگت اندر کو دھنسی آنکھیں سوکھے سوکھے ہاتھ پاؤں، ہم جو اس کو دلہن کے روپ میں دیکھنے کو مرے جا رہے تھے جی بھر کے بد مزہ ہوئے البتہ اس کے بال پہلے سے زیادہ کالے اور لمبے ہو گئے تھے۔
جس کو ٹی بی ہوتی ہے اس کے بال ایسے ہی کالے اور لمبے ہو جاتے ہیں عورتیں سرگوشیاں کرتیں تو میں سہم کر اپنے گھنے سیاہ بالوں کو دیکھتی ٹی بی سے ہمیں بڑا ڈر لگتا تھا ہم نے اس کی گود میں گھسنا چھوڑ دیا میں اس سے پوچھتی سکینہ! تجھے ٹی بی کیوں ہو گئی ہے تُو نے کیا کھایا تھا ؟ اس کی آنکھوں سے موٹے پیلو جیسے آنسو گرتے اور وہ اپنے مخصوص انداز میں طویل سرد آہ بھر کے کہتی ’’ہاہ بلی اے جد اندر کھاج جاوے تے ٹی بی ہو ای جاندی اے۔ تب اس کی باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی، ڈاکٹر نے اسے تھیلا بھر دوائیاں دیں قسم قسم کی رنگ برنگ گولیاں لے کر وہ چلی گئی اور پھر اس کے مرنے کی خبر آئی۔ آہستہ آہستہ اس کی یاد وقت کے دھندلکوں میں گُم ہو گئی مگر اس کی باتیں مجھے اکثر یاد آتیں اس نے ہر ذات پے کوئی نہ کوئی مزاحیہ سی پھبتی بنائی ہوئی تھی۔ موچیوں سے اسے خاص چڑ تھی وہ کہتی، موچی چم چوچی چم دیاں روٹیاں چچڑاں دی دال موچی کھانڑ سواداں نال‘‘ ایسی باتوں پہ ہم ہنس ہنس کے دوہرے ہو جاتے۔ ہاں اسے سیدوں سے پیار تھا وہ کہتی تُسی میرے سوہنڑے نبی سائیں دی اولاد ہو۔
یہ تو بہت بعد میں عقدہ کُھلا کہ اس کو پیار کسی اور سے تھا شادی کسی اور سے ہوئی دل کی دل میں رہی تو ٹی بی بن گئی۔ اب محبتوں کے وہ زمانے نہیں رہے، سب کھو گئے ہیں موسم چاہت کی رُت کہاں۔ اُٹھا خمیر جس سے، انسانیت کا بُت کہاں، اب انسان نہیں روبوٹ ہیں سب اپنی ذات کے اسیر۔ نہ وہ چاند سے مکھڑے نہ گیسوئے خمدار، نہ رشک غزالاں نہ دنددان آبدار۔
اس دوڑتے بھاگتے زمانے کی لگامیں جانے کس کے ہاتھ میں ہیں ہر ایک دکھی ہے ہر ایک کو دوسرے سے شکایت ہے۔ کہتے ہیں خالص اپنے رب کا بندہ وہ ہوتا ہے جو اللہ کی تقسیم پر راضی ہو، سوچنے کیلیئے کھوجنے کے لیئے اللہ کی ذات بہت بڑی ہے۔
ہے تعلق تو اک سادہ لفظ، پھر جو بھی ہے وہ نبھاہ میں ہے ہم کسی تیسرے کی منزل ہیں، دل کسی دوسرے کی چاہ میں ہے
اللہ کسی سے نا انصافی نہیں کرتا ہاں وہ آزماتا ہے کسی کو دے کر کسی سے چھین کر کسی کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، اس نے تو اپنے محبوب کو بھی آزمایا کتنی تکلیفیں اُٹھائیں اللہ کے حبیب نے؟ وہ چاہتا تو دنیا کے تمام خزانے ان کے قدموں میں ڈال دیتا، رسول ﷺ کے نواسے نے یزیدیت کے ہاتھوں کتنے دکھ اُٹھائے کیا اللہ چاہتا تو یہ سارے دکھ کیوں ملتے؟ آزمائش صرف آزمائش۔ کھا لیا پہن لیا، گپیں ہانک لیں، کسی کی برائی کر لی کسی کی خوشامد کر لی، کہیں غرور کیا کسی سے حسد کیا اپنے آرام و آسائش کے لیئے کسی دوسرے کا دل یا گھر ویران کر دیا، کیا انسان کی زندگی صرف اسی مقصد کے لیئے ہوتی ہے؟
اکثر پڑھتی ہوں نفسیاتی مسائل میں مبتلا وہی لوگ ہوتے ہیں جو کسی کے حسد یا کسی قسم کی کمتری میں مبتلا ہوں، اس کے برعکس کچھ احساس برتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جو احساس کمتری کی ہی دوسری شکل ہے، ہم سوچتے ہیں کتنے عام عام سے لوگ کیسے کیسے اعلٰی عہدوں سے نوازے جاتے ہیں دولت سمیٹتے تھکتے نہیں اور کچھ روٹی کو محتاج سوچتے ہیں کڑھتے ہیں کچھ برے کاموں سے اپنی دنیا سنوار کر عاقبت خراب کر لیتے ہیں، کچھ صبر کر کے عاقبت سنوار لیتے ہیں، حالانکہ دیکھا جائے تو اللہ تعالی دیتا سب کو ہے۔ عقل فہم و فراست، سوہنا دل، اچھی نیچر، اچھی سوچ، اچھی شکل، یہ سب بھی تو اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں، مگر سب دولت و جاہ و حشم کے پیچھے بھاگ رہے ہیں کوئی ملک بیچ رہا ہے کوئی مذہب کو داؤ پر لگاۓ بیٹھا ہے، کوئی دولت کمانے کے لیئے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے تو کوئی عزتوں سے کھیل رہا ہے سب کی منزل ایک ہی ہے وہ ہے پیسہ۔
پیسہ آئے کہاں سے آئے کیسے آئے یہ کوئی نہیں دیکھتا۔ جس کے پاس پیسہ نہیں اس کی کوئی عزت نہیں سو جب عزت کا میعار پیسہ ہو تو پھر اس معاشرے کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ شائد آپ سوچیں کہ سکینہ کی کہانی سے اس کا کیا تعلق، وہ کہانی نہیں حقیقت ہے جو میں نے اس لیئے لکھی کہ اب ہمارے قلم محبت کا لفظ لکھنا بھُول رہے ہیں صبح شام بس سیاست ہے اور ہم ہیں ہم لکھتے بھی وہ چیزیں ہیں جو ہماری ریٹنگ کو اوپر لے جاتی ہیں، ہمیں ریٹنگ کی ٹی بی ہو گئی ہے، پہلے صرف دسمبر اداس لگتا تھا اب ہر موسم اداس لگتا ہے، کیونکہ اب انسان، انسان سے دور ہو رہا ہے، لوگ مشینوں کے ساتھ وقت گذار لیتے ہیں۔ انسانی احساسات انسانی رویے بالکل بدل گئے ہیں۔
مگر دسمبر اب بھی اداس ہے تیری یاد کے ساتھ ۔ زرد سُوکھے ہوئے پتوں کی طرح
رُلتے پھرتے ہیں، تیری یاد کے ساتھ صحن دل میں بڑی خاموشی ہے۔
پھر آ گیا دسمبر، تیری یاد کے ساتھ اُداسی بال کھولے سو رہی ہے۔
میرے کاندھے پہ رکھے سر، تیری یاد کے ساتھ درد دل میں ہوتا ہے، آنکھ بھر۔