Home/اہم خبریں/ضلع خیرپور نارو میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی بند کی جائے، عرب شہزادوں کے لئے زمینوں پر کئے جانے والے قبضے ختم کرائے جائیں۔ ارشد آرائیں پاسبان
ضلع خیرپور نارو میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی بند کی جائے، عرب شہزادوں کے لئے زمینوں پر کئے جانے والے قبضے ختم کرائے جائیں۔ ارشد آرائیں پاسبان
حیدرآباد (بیورو رپورٹ) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی حیدرآباد کے صدر ارشد آرائیں، لاڑکانہ کے آرگنائزر نظر احمد مغیری اور خیرپور کے آرگنائزر محمد علی مہر نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع خیرپور میں نارو کے علاقے فقیر آباد میں درختوں کی بے رحمانہ کٹائی کو فوری طور پر روکا جائے۔ عرب شہزادوں کے لئے مقامی لوگوں کی زمینوں پر کئے جانے والے قبضے ختم کرائے جائیں۔ عرب شہزادوں کے شکار کے دوران مقامی خواتین کو زمینوں پر کام کرنے کے دوران مشکلات پیش آتی ہیں جبکہ درختوں کی کٹائی سے ان کے مویشیوں کو چرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پاسبان رہنماؤں نے حکومت سندھ سے پُرزور مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے۔ سندھ کے علاقوں میں وڈیروں کی سرپرستی میں ہونے والی درختوں کی کٹائی اور تمام غیر قانونی کاموں کو روکا جائے تاکہ ناظم جوکھیو جیسا کوئی اور ناخوشگوار واقعہ ہونے سے روکا جا سکے۔ وہ حیدرآباد پریس کلب پر خیرپور کے علاقے نارو میں ہونے والی درختوں کی کٹائی اور مقامی آبادی کی زمینوں پر قبضہ کر کے عرب شہزادوں کے لئے بنائے جانے والے ایئرپورٹ کے خلاف مظاہرے سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقعہ پر ان کے ہمراہ پاسبان حیدرآباد کے رہنما نوید اکبر آرائیں، سید زاہد حسین شاہ، عبداللہ راجپوت، راشد رئیس ایڈووکیٹ، اکرم عباسی ایڈووکیٹ، وزیر علی ایڈووکیٹ اور پاسبان ورکرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پاسبان رہنماؤں نے کہا کہ مبینہ عرب شکاریوں کے کچھ ایجنٹ، خبر اور کنڈی کے درختوں کو توڑ رہے ہیں۔ گاؤں والوں کو ڈرا دھمکا کر چپ کرا دیا جاتا ہے۔ عرب شیخوں کے ایجنٹوں نے مقامی آبادیوں کے رہائشیوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ آئے دن تلور کے شکار کے لیئے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گوٹھوں کے اندر گھس آتے ہیں۔ ان کا رویہ عام لوگوں کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز اور تذلیل بھرا ہوتا ہے۔ عرب شکاریوں کے ایجنٹوں کو طاقتور سیاسی حلقوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ نارو کے علاقوں میں کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر عرب اشرافیہ کے لیے نجی طیارے کی لینڈنگ کی سہولیات بنانے کے لیے تقریباً 100 ایکڑ زمین بھی قبضہ کر کے حاصل کی ہوئی ہے۔ درختوں کی کٹائی کی وجہ سے علاقے کو ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ یہ درخت مقامی دیہاتیوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی ہیں کیونکہ ان کے مویشی ان کے پتے چراتے ہیں۔ درختوں کی کٹائی ایک غیر قانونی عمل ہے۔ حکومت خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے اور مقامی دیہاتیوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے تاکہ ملیر دھابیجی کے نوجوان ناظم جوکھیو جیسا کوئی اور ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے سے روکا جا سکے۔